The news is by your side.

آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ ابتر صورتحال باعث تشویش ہے،تحریک تحفظِ آئین پاکستان۔

آزاد خطے میں پرامن عوامی احتجاج پر ریاستی طاقت کے بے جا استعمال آئینی و جمہوری تقاضوں کے بالکل برعکس ہے۔ ترجمان

0

 اسلام آباد :  تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر کی حالیہ ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوری اور انسانی اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔

تنظیم کے ترجمان نے کہا ہے کہ آزاد خطے میں پرامن عوامی احتجاج پر ریاستی طاقت کے بے جا استعمال نے نہ صرف عوامی احساسات کو مجروح کیا ہے بلکہ یہ عمل آئینی و جمہوری تقاضوں کے بالکل برعکس ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پولیس گردی کے واقعات، نہتے مظاہرین پر تشدد، اور فائرنگ کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں کا زخمی اور شہید ہونا نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ایسے اقدامات سے عوام کے اندر مزید بے چینی اور اضطراب پیدا ہو رہا ہے جو خطے کے امن و استحکام کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ تحریک تحفظِ آئین پاکستان ان مظلوم شہریوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کی قربانیوں کو رائیگاں جانے نہیں دے گی۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ تحریک تحفظِ آئین پاکستان عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کی مکمل تائید کرتی ہے کیونکہ یہ مطالبات براہِ راست عوامی فلاح و بہبود اور بنیادی حقوق کی بحالی سے متعلق ہیں۔ تنظیم نے حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کی بجائے فوری طور پر مذاکرات کا راستہ اپنائیں اور عوامی نمائندوں کے ساتھ خلوص نیت کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں۔

ترجمان نے کہا کہ عوامی آواز کو دبانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ یہ کشیدگی مزید بڑھائے گی۔ حکومتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام ہی ریاست کی اصل طاقت ہیں، اور ان کی رائے اور مطالبات کو نظر انداز کرنے کے بجائے ترجیح دینا ہی حقیقی جمہوریت کی روح ہے۔

تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اگر عوامی ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں آواز بلند کی جائے گی اور ہر ممکن جمہوری و آئینی راستہ اختیار کیا جائے گا تاکہ عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.