اسلام آباد: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے منصفانہ مارکیٹیوں کے قیام کے لئے کمپٹیشن کے قانون کی اہمیت اور اس حوالے سے ریسرچ کے فروغ دینے کے پیش نظر اور کمیشن کے افسران کی کیپسٹی بلڈنگ کے لئے لیکچر سیریز کا آغاز ۔
اس پروگرام میں مارکیٹ اور کمیٹیشن قوانین کے قومی و بین الاقوامی ماہرین مختلف قسم کی مارکیٹوں میں قانون کے نفاذ بارے اپنے خیالات اور تجربات کا تبادلہ کریں گے۔
اس لیکچر سیریز کے پہلے سیشن کے موقع پر چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ نئی نئی مارکیٹوں میں تیزی سے بدلتے حالات اور درپیش نئے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کمپٹیشن کمیشن کو ماہر تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لیکچر سیریز کا مقصد کمیشن کے افسران کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور انہیں دنیا میں ابھرتے نئے نئے تصورات سے آگاہ رکھنا ہے۔
ڈاکٹر امبر ڈار، مانچسٹر یونیورسٹی برطانیہ میں کمیٹیشن قوانین کی لیکچرر ہیں، نے ڈیجیٹل مارکیٹوں میں مرجر اور ایکوزیشن کے موضوع پر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مرجرز کے روایتی ریگولیٹری فریم ورک کو جدید تیزی سے بدلتی ڈیجیٹل مارکیٹس کے تناظر میں اپ گریڈ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے "کلر ایکوزیشنز”، زیرو پرائس مصنوعات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تعریف، اور ڈیجیٹل ایکو سسٹم جیسے نئے مسائل کو اجاگر کیا۔
سیشن میں کمپٹیشن کمیشن کے افسران، مینجمنٹ ایگزیکٹوز اور ڈائریکٹر جنرلز شریک ہوئے اور پاکستان کے قانونی و ریگولیٹری تناظر میں ان نئے تصورات پر بحث کی۔