The news is by your side.

کثیرالجماعتی کانفرنس کا اعلامیہ جاری، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

0

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے فلسطین کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے بلائی جانے والی کثیر الجماعتی کانفرنس (ایم پی سی) میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ اسرائیل کے نسل کشی پر مبنی اقدامات کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

ایوان صدر میں منعقد ہونے والی اس آل پارٹیز کانفرنس میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری، احسن اقبال، شیری رحمٰن، حافظ نعیم الرحمٰن، مولانا فضل الرحمٰن، ایمل ولی خان اور یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے۔

اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہ دن دیکھے ہیں جب پی ایل او کا دفتر یہاں موجود تھا اور یاسر عرفات آتے جاتے رہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا آغاز ایک سال قبل ہوا، جس میں 41,800 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے بعد لبنان، شام اور یمن کے شہریوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت نہ صرف خطے کے امن اور سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے کہا کہ فلسطینیوں پر ظلم کی داستان تاریخی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے، جنہیں والدین کے سامنے شہید کیا جا رہا ہے، ان کی لاشیں دل کو توڑ دیتی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے اقدامات کے خلاف کچھ نہیں کر رہی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ فلسطینیوں کا خون رنگ لائے گا اور اسلامی ممالک کو اکٹھا ہو کر فیصلہ کن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اسرائیل کی ریاست کا قیام 1917 میں ہوا اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اسے ناجائز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فلسطینیوں کے ساتھ عملی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے مشترکہ دفاعی حکمت عملی بنانی چاہیے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف قراردادیں منظور کرنے یا اعلامیہ جاری کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔اس کانفرنس کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کیا جائے گا۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.