The news is by your side.

عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر روٹری انٹرنیشنل کا معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

افغانستان سمیت پاکستان دنیا کے ان آخری دو ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی یہ وائرس موجود ہے۔

0

اسلام آباد: عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر روٹری انٹرنیشنل نے پاکستان میں وائلڈ پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی کئی دہائیوں پر محیط معاونت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔افغانستان سمیت پاکستان دنیا کے ان آخری دو ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی یہ وائرس موجود ہے۔
عالمی یومِ انسدادِ پولیو ہر سال 24 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ روٹری نے یہ دن ڈاکٹر جوناس سالک کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے متعارف کرایا تھا، جنہوں نے تقریباً 70 برس قبل پولیو سے بچاؤ کے اولین محفوظ اور مؤثر حفاظتی ٹیکے تیار کیے تھے۔ یہ دن پولیو کے خاتمے کے لیے ہونے والی پیش رفت کو سراہنے اور اس مقصد کے حصول کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتاہے۔
پولیو سے پاک دنیا کا تصور پیش کرنے والی پہلی تنظیم روٹری نے 1988 میں گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو (جی پی ای آئی) کے قیام میں معاونت کی۔ اُس وقت 125 ممالک میں ہر سال تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار بچے پولیو سے متاثر ہو رہے تھے۔ آج روٹری اور اس کے عالمی شراکت داروں کی کوششوں کے نتیجے میں پولیو کے کیسز میں 99.9 فیصد سے زائد کمی آ چکی ہے، جس سے 2 کروڑ سے زائد افراد کو عمر بھر کی معذوری سے بچانا ممکن ہوا ہے۔
اس موقع پر روٹری انٹرنیشنل کے صدر اولے اینکا حکیم بابالولا نے کہا، ’’ہم اب تک 3 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی معاونت فراہم کر چکے ہیں، جس میں پاکستان میں روٹری کے ارکان کی جانب سے دیے گئے 13 لاکھ امریکی ڈالر بھی شامل ہیں۔ ان وسائل میں سے نصف ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری اور رضاکاروں کی جانب سےبے شمار گھنٹوں پر مشتمل خدمات کے ذریعے پاکستان میں 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کی وجہ سے ہونے والی معذوری سے بچانے میں مدد دی گئی ۔‘‘ اولے اینکا حکیم بابالولا نے نائیجیریا میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں رہنما کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں 2020 میں افریقہ کو وائلڈ پولیو وائرس سے پاک قرار دینے کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا، ’’افریقہ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ باہمی تعاون اور سیاسی و مالی معاونت کے ذریعے پاکستان میں پولیو کا خاتمہ اور دنیا بھر سے اس بیماری کا مکمل انسداد ممکن ہے۔‘‘
روٹری کے ارکان حکومتوں سے معاونت حاصل کرنے کے لیے بھی سرگرمِ عمل رہتے ہیں اور پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان میں یہ کردار خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ ویکسین لگوانے سے انکار اب بھی ہر بچے کو تحفظ تک رسائی دینے کی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
روٹری کی پاکستان نیشنل پولیو پلس کمیٹی کے چیئرمین عزیز میمن نے کہا، ’’پاکستان میں انسدادِ پولیو کی کوششوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور رواں سال صرف چند کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ہم عوامی اعتماد اور اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے کمیونٹی کی دیگر ضروریات پوری کرنے پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، کمیٹی نے پاکستان بھر میں واٹر فلٹریشن پلانٹس، مقامی آبادی کے ساتھ روابط مضبوط بنانے کے لیے وسائل مراکز، فرنٹ لائن ورکرز کی سہولت کے لیے ٹیم سپورٹ سینٹرز اور دورانِ سفر بچوں کی پولیو ویکسین تک رسائی یقینی بنانے کے لیے مستقل ٹرانزٹ پوسٹس کے قیام میں معاونت کی ہے۔‘‘

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.