ملتان واقعہ، 15 سالہ وسیم کو گاڑی تلے مارنے والا توقیر مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
وسیم عباس ایک الیکٹریشن کی دوکان پر ملازم تھا، دوکان پر بھاگنے کی کوشش، ٹھیکیدار نے گاڑی پر پیچھے کیا اور پھر اس کو گاڑی کی ٹکر مار کر ہلاک کردیا،
ملتان: اولیا اللہ کے شہر ملتان میں رونما ہونے والے سفاک واقعے کو پنجاب پولیس نے نہایت سفاک انداز میں نمٹا دیا،
اس واقعے کا انجام 15 سالہ وسیم عباس کے قاتل توقیر نذیر کی مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں ہلاکت کی صورت میں یوا،
تاہم صوبہ پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا دعویٰ ہے کہ وسیم عباس کو ہلاک کرنے والے ٹھیکیدار توقیرنذیر مقامی پولیس کی تحویل سے فرار ہونے کے بعد ’اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔
واضح رہے کہ 15 سالہ وسیم عباس ایک یتیم بچہ تھا جس کے والد کی وفات کے بعد اس کی ماں نے دوسری شادی کر لی،
سوتیلے باپ کے رویے کے باعث مان نے اپنے بچے کو ایک یتیم خانے کے حوالے کر دیا ،
یتیم خانے کے مالک نے وسیم کو الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ایک الیکٹریشن کے پاس نوکر رکھوا دیا لیکن نطاہر یہبچہ وہاں کام نہیں کرنا چاہتا تھا ، یہی وجہ تھی کہ وسیم اکثر وہان سے بھاگ جاتا تھا،
بچے کو ہلاک کرنے والے توقیر نے بھی پولیس کو تفتیش کے دوران یہی بیان دیا اور بتایا کہ وہ وسیم کو پکڑکر دوکان لیجانا چاہتا تھا
وسیم کی ہلاکت 19 اکتوبر کو ہوئی اور اس کو کس طرح اس کو ہلاک کیا گیا اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو سوشل میڈیا پر دیکھا ا سکتا ہے ، موقعہ پر موجود لوگوں نے توقیر اور اس کے ساتھی امجد کے حوالے کر دیا ،
اگلے روز توقیر نے پولس تحویل سے بھاگنے کی کوشش کی تو وہ پولیس مقابلے میں مارا گیا جبکہ پولیس ذرائع کا کہنا ہے وہ اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا،