حکومت کا پی ٹی آئی کو کڑا پیغام ،لانگ مارچ ترک کرو ورنہ نتائج کے لیے تیار رہو۔
وزیر اعظم کی دعوت پر مولانا فضل الرحمن کی ان سے ملاقات،صوبہ خیبر پختونخوا بلخصوص پی ٹی آئی لانگ مارچ پر تباد؛لہ خیال، حکومتی درخواست پر مولانا کا ثالثی کردار، تحریک انصاف کی قیادت کو حکومت کا پیغام پہنچا دیا۔
اسلام آباد:پی ٹی ائی کا لانگ مارچ اور حکومت کی جوابی حکمت عملی کا معاملہ ہفتے کی شام کی دارالحکومت اہم اور غیر معمولی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا،
ایک جانب ایوان صدر میں صدر مملکت آصف اعلی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر میں اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں وزیر اعظم کے علاؤہ اہم وزراء کی شرکت تو دوسری جانب وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات،
وزیر اعظم نے بذریعہ ٹیلی فون مولانا کو عمرے کی مبارک باد دی اور ساتھ ہی اسی شام ملاقات کے لیے مدعو کر لیا،
ملاقات میں انھیں تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت کے زیر غور اقدامات کے بارے میں اعتماد میں لیا،
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد سربراہ جے یو آئی نے ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے چیئرمین بیرسٹر گوہر کو اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کے لیے مدعو کر لیا،
معتبرذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے دونوں فریقین کو موجودہ حالات میں ہوش سے کام لینے کا مشورہ دیا،
انھوں نے نہ صرف حکومت کو ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے اقدام سے گریز کا مشورہ دیا بلکہ پی ٹی آئی کو کہا کہ وہ لانگ مارچ کا راستہ ترک کرتے ہوئے مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے مسائل کے حل پر توجہ دے،
انھیں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ اس پیغام کو وزیر اعلی خیبر پختونخوا تک پہنچائیں،
بیرسٹر گوہر نے اپنی قیادت سے مشورے کے لیے وقت مانگ لیا،
ملاقات کی تفصیل جاننے کے لیے رابطہ کرنے پر ذرائع نے بتایا کہ ابھی پی ٹی آئی اور جگہ یو آئی کے درمیان مشاورت کا عمل جاری ہے ، کوئی بات حتمی نہیں، فیصلہ ہونے پر میڈیا کو ضرور آگاہ کیا جائے گا۔