اپوزیشن جماعتوں کا پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ
یہ فیصلہ پارلیمنٹ میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا،اجلاس میں پی ٹی آئی ، جے یو آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان نے شرکت کی اور مشترکہ نکات پر سینٹ اور قومی اسمبلی میں مل کر چلنے کا فیصلہ کیا،
اسلام آباد:اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ کے اندر متحد ہو کر مشترکہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
متحدہ اپوزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس پارلیمنٹ میں منعقد ہوا ،اجلاس میں اتحاد کی ضرورت اور اس کے آئندہ مشترکہ لائحہ عمل اور حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوص کیا گیا،
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے اعلان کیا کہ امن و امان، مہنگائی، خارجہ تعلقات اور عوامی مسائل سمیت اہم قومی معاملات پر پارلیمنٹ میں مشترکہ مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کا دن مبارک ہے، حزب اختلاف کے بنچوں پر بیٹھنے والی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مشترکہ اپوزیشن کا کردار ادا کریں گی۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال کے باعث آج سب اکٹھے ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ وقت صوبوں کی تقسیم کا نہیں، تقسیم سے بداعتمادی بڑھے گی۔ اٹھارہویں ترمیم مقتدرہ کے حلق کا کانٹا بنی ہوئی ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں ریاستی سطح پر ملک کسی نئے بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مطالبات کے لیے آج پہلا قدم اٹھایا گیا ہے اور آج سے سفر کا آغاز ہو رہا ہے۔
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ گھٹن کے موجودہ ماحول میں اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان کا متحد ہونا خوشی اور مبارکباد کا دن ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اتحاد پاکستان کی کھوئی ہوئی عظمت واپس دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ربیع الاول کے مقدس مہینے میں اپوزیشن کا متحد ہونا نیک شگون ہے۔ ۔ ان کا کہنا تھا کہ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے اور لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ صوبوں کے حوالے سے ایک دن میں آئینی ترمیم نہیں کی جا سکتی، اس معاملے پر بھی مشاورت ضروری ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ عوامی مسائل کے حل اور سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔