The news is by your side.

1954 کا زمانہ واپس، ایوب خان کی طرح عاصم منیر بھی وفاقی کابینہ کا حصہ بن گئے

فیلٖڈ مارشل عاصم منیر حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور کردہ  پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 1926 کے تحت وزیر اعظم کے باوردی مشیر اعلی ہوں گے، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کا حصہ ہوں گے ، سول حکومتوں کی کارکردگی پر بھی نظر رکھیں گے،

0

اسلام آباد: ملک میں پھر سے 1954 کا زمانہ لوٹ آیا جب سابق صدر و فیڈل مارشل ایوب خان پاک فوج کا سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ  وفاقی کابینہ کا بھی حصہ ہوا کرتے تھے ، ان کی طرح اب موجودہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وفاقی کابینہ کا حصہ قرار ہا گئے، 

اس حیثت میں وہ نہ صرف وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں شریک ہو سکیں گے بلکہ سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں بھی حصہ لے سکیں گے،

اس بات کا انکشاف سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے ایک اردو روزنامے میں شائع ہونے والے اپنے  ارٹیکل میں کیا،

آرٹیکل کے مطابق گذشتہ جمعرات کو دفاعی افواج اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق دو بل قومی اسمبلی اور سینٹ میں کثرت رائے سے منظور کیے گئے،

پاکستان دفاعی افواج ایکٹ 1926 کے عنوان سے منظور کردہ یہ قانون  13 نومبر 2025 سے موثر باعمل سمجھا جائے گا،

ان قوانین کی منظوری کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر ، آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہونے کے ساتھ ساتھ  قومی سلامتی دفاع اور مسلح افواج سے متعلق تمام امور کے بارے میں  وزیراعظم کے مشیر اعلی بھی ہوں گے ، یعنی باوردی ہوتے ہوئے ان کے پاس اب ایک سول عہدہ بھی ہو گا،

آرٹیکل کے مطابق اس حیثیت سے وہ کابینہ کا حصہ ہوں گے اور قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس میں شرکت کی بھی ائینی مجاز ہوں گے،

بطور مشیر اعلی وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی گورننس پر بھی نظر رکھیں گے اس طرح کابینہ کی کارکردگی معیاری ہوگی اور صوبائی حکومتوں کو بھی ادراک ہو جائے گا کہ گورنرز کے حوالے سے مشیر اعلی ان کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں،

آرٹیکل کے مطابق چیف اف ڈیفنس فورسز کے مشیر اعلی مقرر ہونے سے 1954 کی تاریخ تازہ ہوتی نظر اتی ہے جب عبوری ائین کے تحت گورنر جنرل غلام محمد کی کابینہ میں جنرل محمد ایوب خان وزیر دفاع مقرر ہوئے تھے اور کابینہ کے اہم رکن کے طور پر ملکی سیاست پر بھی ان کی گہری نظر تھی،

سی ڈی ایف کے مشیر اعلی مقرر ہونے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس موقف کی توثیق ہوتی ہے کہ وزیراعظم تمام وزارتوں کی کارکردگی کی جانچ پڑتال تیسرے فریق سے کرائیں گے اور نتائج عوام کے سامنے رکھیں گے،

تیسرے فریق کی جانچ پڑتال سے معلوم ہو سکے گا کہ کون سی وزارت کتنا کام کر رہی ہے،

کنور دلشاد اپنے آرٹیکل میں مزید کہتے ہیں کہ تیسرے  فریق میں پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے اور ممکن ہو سکے تو اڈیٹر جنرل پاکستان ایف بی ار کے چیئرمین اور قومی احتصاب بیرو کے چیئرمین کو بھی اس کمیٹی میں شامل کرنا چاہیے،

تھرڈ پارٹی اڈٹ کے بعد 28 ویں ترمیم پاکستان کے سیاسی نظام میں اہم تبدیلیوں کے لیے بھی شقیں شامل کرنی چاہیے،

حالات یہ بتا رہے ہیں کہ مقتدرہ حلقے اس حوالے سے پرعزم ہیں اور اس راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو اپنے مستقبل کی فکر کرنا ہوگی،

اگر 28ویں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش ہوتا ہے تو اس میں ارٹیکل 140 اے میں بھی ترمیم اور ایک اہم شق کا اضافہ کیا جانے کا امکان ہے جس کے مطابق لوکل گورنمنٹ کا اختیار صوبوں سے وفاق کی تحویل میں چلا جائے گا اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت تمام مالیاتی فنڈز براہ راست مقامی حکومتوں کو دیے جائیں گے اور صوبائی حکومتوں کے بجائے وفاق بلدیاتی اداروں کو براہ راست ترقیاتی فنڈ تفویض کرے گا

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.