The news is by your side.

دلجیت دوسانجھ کی فلم ستلج نے بھارت میں سکھوں کو مشکوک بنا دیا۔

فلم نے ہندووں کو مرچین لگا دیں ، سکھوں کو خالصتان کا حامی سمجھا جانے لگا، فلم نے مقبولیت کے جھنڈے تو گاڑھے لیکن بھارتی معاشرے کو انتشار سے دوچار کر دیا۔

0

اسلام آباد: سکھوں کے قتل عام کے واقعات کو بے نقاب کرنے والی دلجیت دوسانجھ کی فلم ستلج نے بھارتی معاشرے میں بھونچال پیدا کر دیا، فلم کے بارے میں ہر سطح پر اور ہر طبقے میں بحث و مباحثے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بھارت کا سوشل میڈیا اس فلم پر بہت سیخ پا دکھائی دے رہا ہے،

اس فلم کے نتیجے میں دلجیت دوسانجھ کو شک و شبے کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور فلم کو سکھوں کو بھڑکانے کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے،

فلم ستلج نے ہندووں اور سکھوں کے درمیان تناو کی ایک نئی لکیر کھینچ دی ہے، ہندوون کی جانب سے فلم پر تنقید اور سکھوں کی جانب سے فلم کی پذیرائی نظر آتی ہے ،

فلم نے سکھوں کی بھارت میں سکھوں کی اوقات کو اجاگر کیا ہے ، اور یہی چیز سکھوں میں بے چینی کا باعث بن گئی ہے سکھوں کے اندر پیدا یونے والا یہ احساس تنگ دل ہندووں کو برداشت نہیں ہو رہا،

فلم کو پہلے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کے ساتھ تنازع کا سامنا کرنا پڑا اور پھر ریلیز کے صرف 48 گھنٹے بعد ہی اسے خاموشی سے ژی5 سے ہٹا دیا گیا۔

یاد رہے فلم ستلج بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے جسونت سنگھ خالڑا کی زندگی پر مبنی کہانی ہے، جو ایک بینک کلرک تھے اور 1990 کی دہائی کے وسط میں پنجاب میں انسانی حقوق کے رہنما بن گئے۔

انہوں نے 1984 سے 1994 کے درمیان پنجاب میں 25,000 افراد کی خفیہ طور پر آخری رسومات سے متعلق تحقیقات کیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق 1995 میں جسونت سنگھ خالڑا کو پولیس نے اغوا کیا اور بعد ازاں دوران حراست انھیں قتل کر دیا گیا۔

فلم  ژی5 سے ہٹائے جانے کے باوجود ،مقبولیت کے جھنڈے گاڑھ رہی ہے جس نے ہندووں میں مرچین لگا رکھی ہیں۔۔۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.