The news is by your side.

اسلام آباد ہائیکورٹ کا رجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم،

جسٹس محمد اعظم خان نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا،پی سی ایل میں نام شامل کرنے کا یہ اختیار لامحدود نہیں ہے، اسے منصفانہ اور قانونی طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے، فیصلے کا متن

0

اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متعلقہ اداروں کو  یوٹیوبر رجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا،

جسٹس محمد اعظم خان نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا،جس کے مطابق  این سی سی آئی اے کی درخواست پر رجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا،

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کے این سی سی آئی اے حکام کو رجب بٹ کا نام پی سی ایل سے نکالنے پر کوئی اعتراض نہیں،

کسی فرد کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا اختیار پاسپورٹ ایکٹ اور پاسپورٹ رولز میں موجود ہے،

پی سی ایل میں نام شامل کرنے کا یہ اختیار لامحدود نہیں ہے، اسے منصفانہ اور قانونی طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے،

ایسی کسی بھی پابندی عائد کرنے کے لیے ٹھوس وجوہات درکار ہوتی ہیں، جن پر اترنا لازم ہے،ریکارڈ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ درخواست گزار کا نام PCL میں شامل کرنے سے قبل کوئی اسے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا،

صرف انکوائری یا تحقیقات کا زیرِ التوا ہونا کسی شخص پر سفری پابندی عائد کرنے کے لیے کافی نہیں،پی سی ایل میں نام شامل کرنے کا بنیادی مقصد متعلقہ شخص کی تفتیشی ادارے یا عدالت کے سامنے حاضری یقینی بنانا ہے،جب یہ مقصد حاصل ہو جائے تو ایسی پابندی کا جاری رہنا غیر ضروری اور قانونی حیثیت سے محروم ہو جاتا ہے،فریقین یہ ثابت نہ کر سکے کہ درخواست گزار کے فرار ہونے، قانون سے بچنے یا تفتیش کو متاثر کرنے کا کوئی امکان موجود ہے،درخواست گزارخود تفتیشی ادارے کے سامنے پیش اور انکوائری میں شامل شامل ہو چکا ہے،متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے “نو آبجیکشن” ملنے کے بعد نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں رکھنا غیر قانونی اور بلا جواز ہے۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.