پاکستان میں غیرقانونی سگریٹ کی فروخت، معیشت کو ساڑھے تین سو ارب کا نقصان۔
ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کو کنٹرول کرنا ہو گا، غیرقانونی فروخت سے دستاویز معیشت کو نقصان ہوتا ہے،وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی
اسلام آباد: پاکستان میں 54 فیصد سگریٹ غیر قانونی فروخت ہونے سے سالانہ ساڑھے 3 سو ارب تک نقصان ہونے کا انکشاف،
پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی فروخت پر اکسفورڈ اکنامکس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فروخت ہونے والے 54 فیصد سگریٹ غیر قانونی ہیں،
اکنامک اسسمنٹ رپورٹ کیمطابق 2025 کے دوران پاکستان میں 43.5 ارب غیر قانونی سگریٹ فروخت ہوئے ہیں،
2025 میں غیر قانونی سگریٹ کی فروخت سے معیشت کو 274 تا 343 ارب کا نقصان ہوا، 2024 میں غیر قانونی سگریٹ کا 64 فیصد مارکیٹ شیئر مقامی کمپنیز کا تھا،
مالی سال 2022 اور 2023 میں سگریٹوں پر ایکسائز ڈیوٹی میں 107 فیصد اضافہ کیا گیا،
رپورٹ کیمطابق ایکسائز ڈیوٹی میں شدید اضافے سے ملک میں غیر قانونی سستے سگریٹ کی فروخت بڑھ گئی،
ایکسائز ڈیوٹی اضافے سے ٹیکس ادا کرنے والے قانونی سگریٹ کی قیمت میں 46 فیصد اضافہ ہوا قیمت میں اضافہ سے صارفین سستے، سمگل اور غیرقانونی سگریٹوں پر منتقل ہوئے،
اس حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ایف بی آر کو 2 سو ارب روپے کا سالانہ نقصان تمباکو کے شعبے سے ہوتا ہے،
ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کو کنٹرول کرنا ہو گا، غیرقانونی فروخت سے دستاویز معیشت کو نقصان ہوتا ہے، وزیر اعظم خود مختلف شعبوں کے ٹیکس کے معاملات پر نظر رکھتے ہیں،
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ سیگرٹ کے شعبے میں ٹریک اینڈ ٹریک سسٹم پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے،
حکومت نے ایکشن لیا اور غیرقانونی سیگریٹس بنانے والی فیکٹریوں کو بند کیا، غیر قانونی سیگریٹ بیچنے والے ریٹیلرز پر چھاپے مارے جاتے ہیں،
صوبائی حکومتوں سے مل کر غیر قانونی برانڈز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، تمام کارروائیوں کا مقصد ایف بی آر ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا ہے،