جنگ بندی کا ایک مجوزہ منصوبہ امریکہ اور ایران تک پہنچا دیا گیا،
جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثوں کی کوششوں کے جواب میں ایران نے اپنا مسودہ تیار کر لیا ہے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
اسلام آباد: جنگ بندی کا ایک مجوزہ منصوبہ امریکہ اور ایران تک پہنچا دیا گیا،
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثوں کی کوششوں کے جواب میں ایران نے اپنا مسودہ تیار کر لیا ہے،
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنگ بندی کا ایک مجوزہ منصوبہ امریکہ اور ایران تک پہنچا دیا گیا ہے اس حوالے سے کچھ معلومات سامنے ائی ہیں لیکن بہت کچھ اب بھی واضح نہیں ہے،
اطلاعات کے مطابق منصوبہ دو حصوں پر مشتمل ہے اس میں جو سب سے پہلی چیز ہے اور جس پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ ہے فوری جنگ بندی جبکہ مسودے کا دوسرا حصہ بعد میں انے والا زیادہ جامع معاہدہ ہے،
رائٹرز کے مطابق ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے کہا ہے کہ عارضی جنگ بندی کے ذریعے آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی،
ایران کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ملک کے سویلین اہداف بشمول پلوں اور پاور پلانٹس پر حملے کی دھمکیاں جنگی جرائم کے زمرے میں اتی ہیں،
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دھمکیاں اقوام متحدہ کے ارٹیکل ٹو کی چوتھی شق کی خلاف ورزی ہیں،
ایران نے خبردار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد اس کا جوابی وقت تباہ کن اور ہمہ گیر ہو گا،
ایرانی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو ایرانی افواج بھی خطے میں امریکہ کی اسی طرح کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گی،
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ ان کے انٹیلیجنس چیف مجید خادمی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئے ہیں،