پاکستان کی افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کاروائیاں، 7 ٹھکانے تباہ
وزارت اطلاعات و نشریات نے ان کاروائیوں کی تصدیق کر دی، کاروائیاں صبہ پکتیکا ، خوست اور ننگرہار کے اضلاع میں کی گئیں، دہشت گردی کا انفراسٹرکچر تباہ اور بھاری جانی نقصان
اسلام آباد: پاکستان کی افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف بڑی کاروائی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندستان کے 7 ٹھکانون کو تباہ کر دیا گیا،
یہ کاروائیاں جیٹ طیاروں کے ذریعے افغانستان کے صوبہ پکتیکا، ننگر ہار اور خوست میں عمل میں لائی گئی،دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے، جیٹ طیاروں کے حملوں میں دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے ملیا میٹ ہوگئے،
حکومت پاکستان نے ان کاروائیوں کی تصدیق کر دی، وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق
پاکستان میں حالیہ خودکش بم دھماکوں کے واقعات، بشمول اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ، بنوں اور آج بنوں میں ہی رمضان کے مقدس مہینے کے دوران مزید ایک واقعے کے بعد، پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کی ایماء پر کیں۔
ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان جن کا تعلق فتنہ الخوارج (ایف اے کے) اور ان سے وابستہ تنظیموں اور دولت اسلامیہ صوبہ خراسان (آئی ایس کے پی) نے بھی قبول کی تھی.
پاکستان کی جانب سے بار بار افغان طالبان حکومت پر زور دینے کی کوششوں کے باوجود کہ وہ افغان سرزمین کے استعمال کو روکے،
پاکستان، عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے کہ عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج و دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال کو روکے،
افغان میڈیا کے مطابق جیٹ طیاروں نے صوبہ پکتیکا کے علاقے برمل میں مرغا بازار کے علاوہ ضلع ارگون ، ننگر ہار کے ضلع خوگیانی ، خیلو ، غنی خیل اور بحسود میں فضائی حملے کیے گئے ہیں،