بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی کا معاملہ، حکومت غیر سنجیدہ۔
پاکستان تحریک انصاف بانی کی صحت کے بارے میں حکومت کی لاپرواہی کے خلاف سراپا احتجاج، پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے احتجاجی مطاہرہ۔
اسلام آباد:بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں نے وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے، حکمرانوں کے لیے اس معاملے پر صفائی پیش کرنا مشکل،غفلت کے مطاہرے کے الزام سے بچنے کے لیے نئے بیانیے پر غور۔
واضح رہے کہ فرینڈ آف کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے اڈیالہ جیل کے دورے اور بانی ٹی آئی آئی سے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ملک میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ رپورٹ سے واضح ہے کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے لاپرواہی برتی گئی اور انھیں نہ صرف میڈیکل ٹریٹمنٹ کی فراہمی میں بیحد تاخیر اختیار کی گئی بلکہ ریٹینا اسپیشلسٹ سے ان کا علاج بھی نہیں کروایا گیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاج میں تاخیر سے بانی ان کی نظر خطرناک حد تک متاثر ہوئی اور ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 85 فیصد تک ڈیمج ہو چکی ہے ،
بانی پی ٹی آئی کو پمز میں فراہم کی گئی میڈیکل ٹریٹمنٹ کے بارے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ پمز اسپتال میں کوئی ریٹینا اسپیشلسٹ ہے ہی نہیں۔ جس سے علاج کرانا وقت کا تقاضا تھا۔
دوسری جانب حکومت بانی کے ذاتی معالجین کو بھی ان سے ملنے نہیں دے رہی جو اس بات کی غماز ہے کہ حکومت عمران خان کی صحت کے معاملے پر سنجیدہ نہیں ہے اور حد درجہ لاپرواہی کی مرتکب ہو رہی ہے،
پاکستان تحریک انصاف بانی کی صحت کے بارے میں حکومت کی لاپرواہی کے خلاف سراپا احتجاج، پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے احتجاجی مطاہرہ۔