پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ابھی بھی امید ہے کہ جنگ نہیں ہو گی، ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم اپنے دفاع کے لئے تیار ہیں،
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دھونس دھاندلی کو تسلیم نہیں کریں گے،
پاکستان سمیت کسی ملک سے اپنی حمایت میں جنگ میں کودنے کا مطالبہ نہیں کرتے بس وہ اپنے ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں، ہم کسی کے مدد مانگنے نہیں جائیں گے_
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کسی ریاست کے سربراہ کے خلاف کوئی عزائم نہیں رکھتا، کسی بھی حکومت کے سربراہ کو قتل کی دھمکی یا کوشیش عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،
امریکی صدر ٹرمپ کی سپریم رہنماء آیت اللہ خامنہ ای کو دھمکی باعث شرم ہے، ہم جنگ سے بچنے کی کوشیش کر رہے ہیں تاہم ان کوششوں کی کامیابی کا 50 فیصد ہمارے اور بقیہ 50 فیصد فریق مخالف کے ہاتھ میں ہے،
پاکستان کی حمایت اور جنگ روکنے کی کوششوں پر اس کے مشکور ہیں،
ایرانی سفیر نے واضع کیا کہ ایران میں مظاہروں میں گرفتار شدہ شرپسندوں، تخریب کاروں اور امریکی و اسرائیلی ایجنٹوں کے ساتھ ایرانی قوانین کے مطابق ہی سلوک کیا جاے گا،
رضا امیری مقدم نے بتایا کہ حالیہ واقعات میں کل 3117 اموات ہوئیں جن مین 2427 سیکیورٹی فورسز اہلکار و عام ایرانی شہری شہید جبکہ 690 دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا انہوں نے بتایا کہ تخریب کاروں نے 414 حکومتی عمارات، 749 پولیس اسٹیشنوں، 200 سکولوں، 350 مساجد کو تباہ کیا،
انھوں نے کہا کہ 31 دسمبر کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم و امریکی صدر نے ٹویٹس کے زریعہ تخریب کاروں کو تخریب کاری کے اشارے دئے جس کے بعد تخریب کاروں نے جدید ہتھیاروں سے۔ سیکیورٹی فورسز۔ اور پولیس اہلکاروں کا قتل عام کیا، سرکاری و شہری املاک کو تباہ کیا،
Please follow and like us: