The news is by your side.

عمران اور بشری کے لیے 2025ء بھی مشکل ترین سال،سزا پر سزا اور قید تنہائی۔

رہائی نہ ہو سکی، پارٹی کوئی تحریک بھی نہ چلا سکی، قیادت منتشر رہی، کارکن مایوسی سے دوچار رہے ، عمران بھی پارٹی سے ناراض،

0

راولپنڈی:  بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی سے ملاقاتوں پر پابندی برقرار ، 30 دسمبر کو بھی ان سے کسی کی ملاقات نہ کروائی گئی اور سال 2025 کا اختتام  دونوں کی قید تنہائی پر ہو گیا ،  30 دسمبر کو  بھی ان کی کسی سے بھی ملاقات نہ کروائی گئی،

یاد رہے کہ سال 2025ء کا آغاز بھی  بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو سزا سنانے سے ہوا تھا جبکہ اس کا اختتام بھی ایک اور کیس میں سزا سے ہوا، رواں سال کے اختتام سے قبل دونون میاں بیوی کو 20 دسمبر کو توشہ خانہ ٹو کیس میں مجموعی طور پر 17 ،17 سال قید کی سزا سنائی گئی، 

رواں سال کے آغاز میں احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 17 جنوری کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے  کی سزا سنائی۔

30 جنوری کو خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت منظور کر لی ۔

 واضح رہے کہ 5 اگست 2023 کو توشہ خانہ کیس میں 3 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی یہ سزا  معطل ہو گئی تھی تاہم دیگر مقدمات میں نامزد ہونے اور سزا ہونے کی بنا پر ان کی قید ختم نہ ہو سکی، 

 غیر شرعی نکاح کیس میں بھی دونوں کو 7،7 سال قید کی سزا ہو چکی ہے ۔جسے ایڈیشنل سیشن جج سیشن جج افضل مجوکا نے معطل کردیا تھا۔

 تین ماہ سے قید تنہائی  کا شکار۔ اس منگل کو بھی کسی کو ان سے ملنے کی اجازت نہ ملی

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.