توشہ خانہ ٹوکیس،جج کو لکھا ہوا فیصلہ ملا، جج نے فیصلہ سنایا اور چلے گئے،علیمہ خان
اب یہ چاہیں گے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اس کیس کو بھی ایک سال تک نہ سنیں،ہمارا اور لوگوں کا صبر ختم ہو گیا ہے،
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خانم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا توشہ ٹو خانہ ٹو کیس کا فیصلہ لکھا ہوا آیا ہے جج صاحب نے فیصلہ سنایا اور چلے گئے
انھوں نے کہا کہ رات کو خیال آیا کہ دھند کے موسم میں فیصلہ جلدی سنانا ہے،یہ ذہین لوگ نہیں ہیں،انکے سکرپٹ سمجھ نہیں آتی
انکو ڈر تھا کہ کوئی بانی سے ملاقات نہ کر سکے،کیا فرق پڑتا ہے آپ نے دس دس سال سزا سنائی،پہلے آپ نے 14,14سال سزا سنائی
اب یہ چاہیں گے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اس کیس کو بھی ایک سال تک نہ سنیں،ہمارا اور لوگوں کا صبر ختم ہو گیا ہے،
علیمہ خان نے کہا کہ انکا سکرپٹ ہے کہ ہر سال چھ ماہ بعد ایک فیصلہ سنائیں گے،ہم اور پاکستان کے عوام اب یہ نہیں ہونے دیں گے
ہم دو ماہ سے یہی توقع کر رہے تھے یہی فیصلہ ہو گا،
بشری بی بی کو غیر قانونی طریقے سے قید تنہائی میں کیوں ڈالا گیا ہے، آپ ایک ایسے قیدی سے ڈرتے ہیں جو 90فیصد عوام کی آواز ہے
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس کیس میں کچھ نہیں ہے،یہ واضح ہے،انھوں نے کہا کہ یہ کیس وعدہ معاف گواہان کی بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں
انکے پاس کوئی گواہ نہیں سوائے اس شخص کے جسکو بانی پی ٹی آئی نے خود نکالا،اس کیس میں ایف بی آر نے بھی وہی قیمت لگائی کو دستاویز میں شامل ہے،
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یہ لغو مقدمات ہیں،کمزور ترین گواہی پر قائم مقدمات ہیں،ایک شخص کھڑے ہو کر کہتا ہے میں نے دباؤ ڈالا ہے اسکی گواہی پر آپ یقین کرتے ہیں،