سینٹ اجلاس شروع،27 ویں آئینی ترمیم کی آج منظوری کا امکان۔
قومی اسمبلی کا اجلاس بھی آج شام دوبارہ شروع ہو گا، سینٹ سے منظوری کے بعد 27 ویں آئیی ترمیم کو بل منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
اسلام آباد : سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ افسر منظور احمد کاکڑ کے زیرِ صدارت شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹرز کی غیر حاضری دیکھی گئی، جو اپنی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شریک ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شامل نہیں ہوئے۔
اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم پر بحث کا آغاز کیا گیا۔ سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی ذات یا پارٹی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ملک و قوم کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں صبر کا مادہ نہیں، اور ساری گفتگو گرفتاری سے شروع ہو کر رہائی پر ختم ہوتی ہے۔
سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے سوال اٹھایا کہ آئینی ترمیم میں ایسا کیا خراب ہے، اور کہا کہ پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانے چاہئیں تاکہ شفافیت قائم ہو۔ انہوں نے اپیل کی کہ ایوان میں خاموشی اور صبر کے ساتھ تمام باتیں سنی جائیں۔
ذرائع کے مطابق سینیٹرز کے اعزاز میں وزیراعظم کی جانب سے پرتکلف ناشتہ بھی پیش کیا گیا، جس میں چنے، نان، حلوہ، آملیٹ، آلو کی بھجیا، لسی، کولڈ ڈرنکس اور منرل واٹر شامل تھے۔
اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کے علاوہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ، میٹرو بس منصوبے، پاکستان سائیکالوجیکل کونسل، براڈکاسٹنگ کارپوریشن ایکٹ اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ایکٹ میں ترامیم کے بل بھی پیش کیے جائیں گے۔
27 ویں آئینی ترمیم کی آج سینٹ سے منظوری کا امکان،
قومی اسمبلی کا اجلاس بھی آج شام دوبارہ شروع ہو گا، سینٹ سے منظوری کے بعد 27 ویں آئیی ترمیم کو بل منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
اپوزیشن کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے بھی 27 آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔