اسلام آباد:چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کا کہنا ہے پاکستان کو اپنا قابل اعتماد اتحادی تصور کرتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے دورے پر آئے چینی وزیر خارجہ کا پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا شاندار میزبانی پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکر گزار ہوں، دونوں ملکوں کے درمیان مختلف امور پر گفتگو ہوئی، سی پیک فیز ٹو پر بھی ملاقات میں تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ان کا کہنا تھا چین پاکستان کو اپنا قابل اعتماد اتحادی تصور کرتا ہے، پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط ہو رہی ہے، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جا رہے ہیں۔
وزیر خارجہ وانگ ژی کا کہنا تھا علاقائی امن و استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے منتظر ہیں۔
چین کے ساتھ تمام اہم معاملات پر اتفاق رائے موجود ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا چین کے وزیر خارجہ کے ساتھ مفید بات چیت ہوئی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی، سی پیک سمیت پاک چین تعلقات سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے چین کے عزم کو سراہتے ہیں، اور خطے کے امن و استحکام اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنےکے لیے پرعزم ہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا سی پیک فیز2، عوامی سطح پر روابط اور دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں، تمام اہم معاملات پر اتفاق رائے موجود ہے، سلامتی کونسل سمیت مختلف فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کے لیے بھی پرعزم ہیں۔
تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان آنے والے چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی جمعرات کو دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے چھٹے سٹریٹیجک مذاکرات میں شرکت کی ۔
چینی وزیر خارجہ بدھ کی شب اسلام آباد پہنچے تھے، اس سے قبل وہ انڈیا کے دو روزہ دورے پر تھے۔
مذاکرات میں شرکت کے لیے جمعرات کی صبح وانگ ژی جب دفتر خارجہ پہنچے تو نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط کے تسلسل کا حصہ ہے۔ ملاقات میں ’ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے، اقتصادی و تجارتی تعلقات کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے بنیادی مفادات پر حمایت کے اعادے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔‘
اگرچہ اس دورے کا مقصد سٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت ہے لیکن سفارتی ماہرین انڈیا اور پاکستان کی حالیہ جنگ کے تناظر میں اسے اہم گردان رہے ہیں۔
Please follow and like us: