The news is by your side.

حج پالیسی 2026 کا اعلان،عملدرآمد کا آغاز 4 اگست سے، پہلے آئیے پہلے پائیے۔

پاکستان کا عارضی حج کوٹہ 179,210 مقرر،119,210 نشستیں سرکاری اسکیم کے لیے مختص کی گئی ہیں جبکہ 60,000 افراد نجی شعبے کے ذریعے حج ادا کریں گے۔

0

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس بات کا اعلان وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کیا۔ نئی پالیسی میں درخواست کے طریقہ کار، مالی شفافیت، ڈیجیٹل نگرانی اور انتظامات میں اہم اصلاحات شامل کی گئی ہیں۔ سرکاری اسکیم کے تحت حج درخواستیں 4 اگست سے جمع کرائی جا سکیں گی، اور انتخاب "پہلے آئیے، پہلے پائیے” کی بنیاد پر ہوگا۔

پالیسی کے مطابق پاکستان کا عارضی حج کوٹہ 179,210 مقرر کیا گیا ہے، جس کی حتمی منظوری سعودی حکام دیں گے۔ اس میں سے119,210 نشستیں سرکاری اسکیم کے لیےمختص کی گئی ہیں جبکہ 60,000 افراد نجی شعبے کے ذریعے حج ادا کریں گے

سرکاری اسکیم کے تحت دو پیکیجز دیے جائیں گے: ایک روایتی 38 سے 42 روزہ پیکیج، اور دوسرا مختصر 20 سے 25 روزہ پیکیج۔ اخراجات کا تخمینہ 11.5 سے 12.5 لاکھ روپے کے درمیان ہوگا، جو حتمی سروس معاہدوں پر منحصر ہے۔ درخواست گزاروں کو ادائیگی دو اقساط میں کرنا ہوگی — لمبے پیکیج کے لیے 5 لاکھ اور مختصر پیکیج کے لیے 5.5 لاکھ روپے، جو 4 اگست سے مقررہ بینکوں کے ذریعے جمع کرائی جا سکے گی۔

پالیسی کے اہم نکات:
* صرف وہی پاکستانی مسلمان جن کے پاسپورٹ 26 نومبر 2026 تک کارآمد ہوں، درخواست دے سکیں گے۔
* 12 سال سے کم عمر بچوں کو اس بار حج کی اجازت نہیں ہوگی۔
* سعودی نظام کے تحت قربانی لازمی ہوگی۔
* سعودی عرب کی منظور کردہ ویکسینز لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
* "روٹ ٹو مکہ” منصوبہ اسلام آباد اور کراچی ایئرپورٹس پر جاری رہے گا۔
* بیرون ملک مقیم پاکستانی مخصوص چینلز کے ذریعے حج واجبات زرِمبادلہ میں ادا کر سکیں گے۔
* نجی حج آپریٹرز کو سخت مالی ضوابط، آئی ٹی پروٹوکولز، اور وزارت کی زیرنگرانی معاہدوں کی پابندی کرنی ہوگی۔

پالیسی میں ڈیجیٹل نگرانی کے لیے پنجاب آئی ٹی بورڈ اور وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام کے تعاون سے ریئل ٹائم ڈیٹا سسٹم متعارف کرایا گیا ہے تاکہ دہری بکنگ روکی جا سکے اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔ سرکاری اور نجی اسکیموں کا تیسری پارٹی سے آڈٹ بھی کروایا جائے گا۔

حجاج کی فلاح و بہبود کے لیے "حجاج محافظ اسکیم” (انشورنس)، ہنگامی رسپانس ٹیموں کی تعیناتی، شکایات کے حل کا نظام، اور عبادات، رسومات و ہنگامی صورتحال سے متعلق جامع تربیتی پروگرامز بھی شامل کیے گئے ہیں۔

وزارت مذہبی امور عملدرآمد کے لیے تفصیلی رہنما ہدایات جاری کرے گی اور نگرانی کے لیے تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا جائے گا۔

یہ پالیسی سعودی عرب کے تقاضوں کے مطابق جدیدیت، ڈیجیٹل شفافیت اور بہتر سہولیات کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.