کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی زیر التو مقدمات کی فعال پیروی،مقدمات کی تعداد 223 رہ گئ،36 کروڑ روپے کے جرمانے وصول۔
گزشتہ برس نئے کمیشن کی تعیناتی کے وقت عالتوں میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 567 تھی
اسلام آباد:کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی جانب سے عدالتوں میں زیر التو مقدمات کی فعال پیروی اور جلدی سماعت کی مسلسل درخواستوں کے نتیجے میں، کمیشن کے فیصلوں کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر التواء 40 فیصد مقدمات کے فیصلے سنا دئے گئے ۔
گزشتہ برس نئے کمیشن کی تعیناتی کے وقت عالتوں میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد 567 تھی۔ فعال پیروی کے نتیجے میں 223 مقدمات کے فیصؒے سنائے گئے، جس کے بعد، زیر التوا مقدمات کم ہو کر 223 رہ گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس دوران، کمیشن کے فیصلوں کئے خلاف نئی اپیلیں بھی دائر ہوئیں۔ ان مقدمات کے فیصلوں کے نتیجے میں کمیشن نے 36 کروڑ روپے کے جرمانوں کی رقوم ریکور کیں۔
اس سلسلے میں کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل کے معزز چئیرمین اور ممبران کی تعیناتی اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ کمپٹیشن ٹربیونل میں 210 اپیلیں زیر سماعت تھیں۔ ٹربیونل نے تیزی سے سماعت کرتے ہوئے 121 مقدمات میں فیصلے سنائے ، جو کہ کل زیر التواء مقدمات کا 58 فیصد ہیں۔ ٹربیونل میں زیر التوا مقدمات کی تعداد صرف 89 رہ گئی ہے۔
اسی طرح لاہور ہائی کورٹ میں50 مقدمات زیر التوا تھے جن میں سے 39 مقدمات کے فیصلے سنائے گئے اور بیک لاگ میں 78 فیصد کمی واقع ہوئی۔ لاہور ہائی کورٹ میں اب صرف کمیشن کے فیصلوں کے خلاف صرف 11 اپیلیں زیر سماعت پیں۔
سندھ ہائی کورٹ میں، زیر التوا 66 اپیلیوں میں سے 40 کیسز نمٹائے گئے جس کے بعد بیک لاگ میں 61 فیصد کمی ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا اپیلیں 30 تھیں جن میں سے 13 کے فیصلے سنائے گئے ، بیک لاگ میں 43 فیصد تک کمی ہوئی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے 11 مقدمات کے فیصلے سنائے گئے ۔ سپریم کوڑٹ نے کمپٹیشن کمیشن کے مینڈیٹ کو چیلنج کرنے والے 171 مقدمات کو ایک جگہ جمع ، یعنی کلب کر دیا ہے، اب ان کی سماعت اکٹھی کی جائے گی۔
اعلیٰ عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں کمپٹیشن کمیشن کے اختیارات کو تسلیم کیا اور اس کی کارروائیوں کو درست قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے ڈالڈا فوڈز کیس کے اہم فیصلے میں کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 36 کے تحت معلومات کے حصول اور انکوائری کرنے کے کمیشن کے قانونی اختیارات کو متفقہ طور پر برقرار رکھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ تمام کمپنیاں کمپٹیشن کی ہدایات پر عمل کرنے کی پابند ہیں اور کمیشن کو انکوائری شروع کرنے سے پہلے تفصیلی جواز فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
پولٹری سیکٹر میں مبینہ گٹھ جوڑ کے معاملے میں لاہور ہائی کورٹ نے پرائس فکسنگ کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے اختیار کو تسلیم کیا۔ جسٹس جواد حسن نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ کمیشن کی جانب سے دیے گئے شوکاز نوٹس کو قبل از وقت ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، سائلین کمپٹیشن کمیشن کے فیصلے کے بعد ہی ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔
کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل نے اپنے اہم فیصلوں میں ریکیٹ بینکیزر (اسٹریپسلز)، پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن، انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان اور برٹش لائسیئم پر جرمانوں سے متعلق کمپٹیشن کمیشن کے آرڈرز کو برقرار رکھا جبکہ پریما ملک، ڈائمنڈ پینٹس، 3 این لائف میڈ اور پاکستان اسٹیل ملز پر عائد جرمانوں میں کمی کی۔ علاوہ ازیں، اپیلٹ ٹربیونل نے شوگر کارٹل پر 44 ارب روپے جرمانے کے ہائی پروفائل کیس میں چیئرپرسن کے کاسٹنگ ووٹ کے اختیار کو مسترد کرتے ہوئے کیس دوبارہ سماعت کے لیے کمپٹیشن کمیشن کو واپس بھجوا دیا ہے۔