The news is by your side.

مون سون کے حالیہ سپل سے ملک کے مختلف شہروں بشمول گلگت، بلتستان میں تباہی

کئی جانیں بارش کی نذر ہو گئیں، متعدد سیاح لاپتہ،تلاش جاری۔ تیز رفتار پانی کئی گاڑیاں بھی بہا لے گیا ۔

0

 اسلام آباد : مون سون کے حالیہ سپل نے اسلام آباد  سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں تباہی مچا دی جبکہ گلگت بلتستان میں  ہونے والے کلاؤڈ برسٹ  کے نتیجے میں بابوسر ٹاپ کے قریب شدید لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے کئی گاڑیاں اور پل بہہ گئے رابطہ سڑکیں اور مواصلاتی نظام تباہ ہوگیا، 3 افراد کی نعشیں مل گئیں، متعدد سیاح لاپتہ ہیں، ضلعی انتظامیہ نے دیامر میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔

ڈی سی دیامر عطاء الرحمان نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں سے 2 افراد کی شناخت ہوگئی ہے اور ایک فیملی کا 3 سال کا بچہ ابھی لاپتا ہے، سیاحوں کی تلاش کے لیے سراغ رساں کتوں کی بھی مدد لی جارہی ہے جب کہ گلگت بلتستان سکاؤٹس نے مزید 3 خاتون سیاحوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ  زخمیوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے آر ایچ کیو منتقل کرچکے ہیں۔

اس حوالے سے ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ شاہراہ بابوسر میں سرچ آپریشن جاری ہے اور گمشدہ لوگوں کی تلاش کی جا رہی ہے ،

متعدد سیاح لاپتہ ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ سیلاب سے گرلز سکول، 2 ہوٹل، پولیس چوکی، پولیس شیلٹر اور شاہراہ بابوسر سے متصل 50 سے زائد مکانات مکمل تباہ ہوئے، 8 کلومیٹر سڑک شدید متاثرہ اور 15مقامات پر روڈ بلاک ہے جب کہ شاہراہ بابوسر پر 4 رابطہ پل بھی تباہ ہوئے ہیں۔

ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق سیکڑوں پھنسے سیاحوں کو چلاس شہر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے اور اب تک 200 سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کرکے چلاس پہنچا دیا گیا ہے، بابوسر میں مواصلاتی نظام نہ ہونے سے سیاحوں کا رابطہ گھروں سے منقطع ہے تاہم چلاس کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز مسافروں اور سیاحوں کیلئے مفت کھول دیے ہیں۔

قبل ازیں ڈی سی دیامر عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاحتی مقام بابوسر ٹاپ پر جل سے دیونگ کے درمیان بادل پھٹنے کے نتیجے میں شدید لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب نے 7 سے 8 کلومیٹر کے علاقے کو شدید متاثر کیا، قدرتی آفت کے باعث سڑک پر 15 بڑے مقامات پر رکاوٹیں پیدا ہو گئیں، جس سے ٹریفک مکمل طور پر معطل ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ چلاس کے علاقے شاہراہ تھک بابوسر میں سیلابی ریلوں میں سیاحوں کی 8 گاڑیاں بہہ گئیں، قدرتی آفت سے بجلی اور فائبر آپٹک لائن متاثر ہوئی جس کے باعث رابطوں میں دشواری کا سامنا ہے، ناران سے بھی بابو سر روڈ کو کھولنے کی کوشش کریں گے۔

راولپنڈی میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کار سوار 2 افراد کرنل (ر) اسحاق قاضی اور ان کی بیٹی برساتی نالے میں بہہ گئے۔

ادھر راولپنڈی اسلام آباد میں تیز بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے جہاں راولپنڈی میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کار سوار 2 افراد کرنل (ر) اسحاق قاضی اور ان کی بیٹی برساتی نالے میں بہہ گئے۔

نالے میں کار سمیت بہہ جانے والے افراد گاڑی سے مدد کے لیے آوازیں لگاتے رہے، کار سوار افراد نے برساتی نالے کے قریب سے گاڑی گزارنے کی کوشش کی، پانی کا بہاؤ تیز ہونے پر دونوں افراد کار سمیت پانی میں بہہ گئے، ریسکیو ٹیم نے باپ بیٹی کی تلاش شروع کر دی ہے۔

جڑواں شہروں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، تلہاڑ، سید پور، باغ راجگان، کھڑکن اور سوہاوہ کے گاؤں متاثر ہوئے ہیں، کئی مکان منہدم ہو گئے اور کئی مویشی پانی میں بہہ گئے ہیں، اڈیالہ سرکل اور بسکٹ فیکٹری چوک پر بارش کے پانی کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔

واضح رہے کہ پانی کی سطح بلند پر راول ڈیم کے سپل وے بھی کھول دیے گئے ہیں۔

ادھر چکوال کی انتظامیہ نے بارش کی پیشگوئی کے باعث الرٹ جاری کر دیا ہے، مساجد میں احتیاطی تدابیر پر مبنی اعلانات کرائے جا رہے ہیں۔

مری میں گزشتہ رات سے شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سےجاری ہے،

مری کے بوستال روڈ اور ایکسپریس وے کے آوائین کے مقام پر لینڈسلائیڈنگ کے واقعات دیکھنے میں آئے جس دوران 3افراد پتھر لگنے سے معمولی زخمی ہوگئے جب کہ امدادی ٹیموں نے گاڑیوں اور 11 افراد کو بحفاظت نکال لیا، نمب جھنڈا گلی گاؤں میں لینڈسلائیڈنگ کے نتیجے میں 2 گھر زد میں آگئے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مری میں وقفے وقفے سے جاری بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث کئی درخت گرگئے جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں پھنس گئی ہیں، بارشوں کے نتیجے میں بھوربن اور ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 12 گھنٹے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.