پی ٹی آئی کی اعلی قیادت حالیہ دھرنے کی ناکامی کی ذمہ دار،پارٹی انتشار کا شکار
پی ٹی آئی قیادت کی پارٹی اور بانی چیرمین سے وفاداری پر بھی سوالات اٹھنے لگے،
اسلانم آباد :
حالیہ احتجاج اور دھرنے کی ناکامی نے پاکستان تحریک انصاف پر مشکلات بڑھا دیں، ایک جانب جیل میں بانی چیرمین عمران خان پر سختیوں میں اضافہ ہو گیا، تو دوسری جانب ملک بھی میں پی ٹی آئی کے رہنماوں اور کارکنوں پر مقدمات کے اندارج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس ناکامی نے خود تحریک انصاف کے اندر بھی ٹوٹ بھوٹ کا عمل شروع کر رکھا ہے ،
اس دھرنے کی ناکامی نے تحریک انصاف کے اندر ایک اور بھونچال بھی پیدا کیا ہے جو قائدین کی سیاسی وفاداریوں پر شکوک و شبہات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جس سے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی بھی محفوظ دکاھئی نہیں دے رہیں اور اس حوالے سے ان کی ذات ہپر بھی انگلیاں اٹھا رہی ہیں،
واضح رہے کہ اب تک وفاقی دارلحکومت اور پنجاب کے مختلف شہروں میں تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنوں کے حلاف درجنوں ائف آئی ار درج کی جا چکی ہیں جن میں ان کارکنوں کے خلاف نہایت سخت دفعات لگائی گئی ہیں جو ان کا مستقبل تاریک کرنے کے لیے کافی ہیں، ان کارکنوں کے ھوالے سے حکومت کے دل میں کوئی رحم یا نرمی کا عنصر دکھائی نہیں دے رہا،
دھرنے کے خاتمے کے بعد گذشتہ دو روز سے پی ٹی آّئی کی قیادت کے اندر بھی ایک بے چینی اور اضطراب کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے جو خود بھی اس صورتحال پر پریشان ہے اور فیس سیونگ کے طیقے تلاش کر رہی ہے ، کور کمیٹی اور سیاسی کمٹی کے در روز سے جاری اجلاسوں میں نہ صرف استعفوں کے اعلان سامنے آرہے ہیں بلکہ رہنماوں کے ایک دوسرے سے الجھنے کی خبریں بھی منظر عام پر آر ہی ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پچھلے دھرنے کی طرح اس دھرنے میں بھی پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت منظر سے مکمل طور پر غائب دکھائی دی، کامیابی کے لیے سار زور وزیراعلی کے پی علی امین گنڈا پور پر تھا،
چیرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ ، سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاض اکرم اور دیگر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی و ٹکٹ ہولڈرز اس احتجاج کے دوران کہیں فرنٹ پر دکھائی نہیں دیے جبکہ عین وقت پر علی امین اور بشری بی بی بھی منظر سے غائب ہوگئے،
اس صورتحال کے تناظر میں مختلف حلقوں کی جانب سے پی ٹی آئی قیادت کی پارٹی اور بانی چیرمیں سے وفاداری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں اور تو اور بشری بی بی اور وزیر اعلی گنڈا پور بھی ان افواہوں سے محفوظ نہیں جن کے بارے میں یہ افواہیں گردش میں ہیں کہ انھوں نے بانی چیرمین سے بے وفائی کی اور بشری بی بی کی جانب سے عمران خان کی ہدایات کی خلاف ورزی کر کے ایک کامیاب احتجاج کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا گیا ۔
یہ دھرنا اس حوالے سے بھی اہم ہو گا کہ اس میں پی ٹی آئی کو پولیس کے ہاتھوں بیہت سے جانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا،