ضلع کرم،پرتشددجھڑپوں میں 76 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی۔مفاہمت کی کوششیں جاری
مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز (اتوار/24 نومبر) کو لوئر کرم کے شیعہ اکثریتی گاؤں علی زئی کے قریب شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔
پشاور:خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ضلع کرم میں سُنی اور شیعہ قبائل کے درمیان مفاہمت کی کوششںں، تاہم علاقے میں حالات بدستور کشیدہ ،مخالف گروہوں میں مختلف مقامات پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز (اتوار/24 نومبر) کو لوئر کرم کے شیعہ اکثریتی گاؤں علی زئی کے قریب شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔
لشکر میں موجود افراد کے پاس بھاری ہتھیار بھی موجود تھے جبکہ علی زئی کے سرحدی علاقوں میں موجود مورچوں سے اس لشکر پر شدید فائرنگ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق سُنی اور شیعہ قبائل کے درمیان مفاہمت کرانے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک حکومتی وفد گزشتہ دو روز سے کرم میں موجود ہتے اور دونوں مخالف دھڑوں کے قائدین سے تفصیلی ملاقاتوں میں مصروف ہے جس کے نتیجے میں ایک گرینڈ جرگہ منعقد کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 21 نومبر کی دوپہر لوئر کرم کے علاقوں بگن اور اوچت میں لگ بھگ 200 مسافر گاڑیوں کے قافلے پر ہوئے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 44 افراد کی ہلاکت کے بعد ضلع کرم میں حالات کشیدہ ہو گئے تھے اور قبائل کے درمیان فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
حکام کے مطابق ضلع کرم میں 21 نومبر کو پیش آئے واقعے کے بعد سے ہونے والی پُرتشدد جھڑپوں اور حملوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 76 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔
لوئر کرم کے شیعہ اکثریتی گاؤں علی زئی کے قریب اتوار کے روز بھی شدید جھڑپیں ہوئی تھیں۔
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شیعہ سُنی قبائل کے درمیان جنگ بندی کرنے کی کوششں جاری ہیں،