پی ٹی آئی قافلہ ہزارہ انٹر چینج سے ڈی چوک کیلیے روانہ، مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں
اٹک کے قریب ہزارہ موٹروے پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے دوران مظاہرین نے ہزارہ موٹروے پل پر قبضہ کر لیا۔ مظاہرین کے پتھراؤ سے چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ مظاہرین پل پر رکھے کنٹینرز ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ دو نجی گاڑیاں جلا دی گئیں۔
میانوالی سے آنے والا قافلہ سی پیک روٹ پر ڈھوک مسکین کے قریب پہنچ چکا ہے، لیکن ہکلہ انٹرچینج پر پولیس کی سخت مزاحمت کے باعث مظاہرین کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ تاہم، مہلو گاؤں کے قریب مظاہرین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، اور پولیس کی جانب سے مزید ایکشن کے امکانات ہیں۔ایکسپریس نیوز کے مطابق تحریک انصاف کے احتجاج کے لیے ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔ بلوچستان اور سندھ سے آنے والے قافلے خیبرپختونخوا میں اکٹھے ہوئے اور پھر آگے بڑھے۔
بشریٰ بی بی نے کارکنوں سے کہا کہ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر جلدی آگے بڑھیں، کیونکہ عمران خان کو لیے بغیر واپس نہیں آنا۔
ہری پور سے آنے والے قافلے نے اٹک پل پر پولیس کی شیلنگ کا سامنا کیا، جس کے بعد مظاہرین نے گرین بیلٹ کو آگ لگا دی اور غازی پل پر کھڑی ایک سوزوکی گاڑی کو بھی جلا دیا۔