اسلام آباد۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ گورنر راج کا مطلب خیبر پختونخواءکے عوام کو بغاوت پر اکسانا ہوگا ،پارلیمنٹ پر شب خون مارنے کی فوٹیج اسی طرح غائب ہوگئی جس طرح 9مئی کی فوٹیج غائب ہیں ،جلسوں اور کنونشز سے بات آگے نکل گئی ،ایس سی او یا کوئی دوسری عالمی کانفرنس ،احتجاج کی کال صرف اڈیالہ جیل کا قیدی ہی واپس لے سکتا ہے ،سردار علی امین گنڈا پور احتجاج لیڈ کر رہے ہیں وہ ڈرنے والے نہیں ،پنجاب کی تنظیم فسطائیت کا مقابلہ کر رہی ،آئینی ترمیم کی مخالفت اپنے لیئے نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی کے لیئے کر رہے ہیں ،فلسطین ایشو پر جماعت اسلامی کے ساتھ ہیں ،مولانا فضل الرحمن بزرگ سیاستدان ہیں ،میانوالی احتجاج سے قبل ہی سارے ایم این اے ،ایم پی ایز گرفتار کر لیئے گے ،کوہٹہ و کراچی میں اب احتجاج کی کال آئیگی ۔بدھ کو پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواءکی باتیں انہیں اس لیئے تکلیف دے رہی ہیں کہ وہ دبنگ انداز میں اپنے کپتان کا موقف دیتے ہیں ،ہر احتجاج کو علی امین گنڈا پور لیڈ کر رہے ہیں ،ساری رکاوٹیں انہوں نے عبور کیں جو کہا کر دکھایا ،اگر ان کی خواہش ہے کہ خیبر پختونخواءمیں گورنر راج لگائیں تو یہ کاغذوں میں تو ممکن ہو سکتا ہی عملا ممکن نہیں اگر پھر بھی ایسی کوئی کوشش ہوتی ہے تو یہ خیبر پختونخواءکے عوام کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش تصور ہوگی ۔پارلیمنٹ ہاوس سے ایم این ایز کی گرفتاری کے حوالے سے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ یہ معمولی واقعہ نہیں ہوا اس کی گونج عالمی سطح پر سنائی دی گئی ،کسی بھی ملک کی پارلیمنٹ اس کی عوام کی اجتماعی دانش گاہ تصور ہوتی ہے ،ہم ساتھی پارلیمنٹرین کے جذبات کی قدر کرتے ہیں جو انہوں نے ہمارے حق میں تقریریں کیں مگر یہ کیسی فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی ہے جس میں پارلیمنٹ پر شب خون مارنے کی تحقیقات کے بجائے ہمارے رکن اقبال آفریدی کے معاملے کو ایجنڈے پر رکھا گیا ،شیخ وقاص اکرم نے انکشاف کیا کہ دوران ریڈ متعدد بار پارلیمنٹ ہاوس کی لائٹس آن ہوئیں پھر وہ فوٹیجز کیوں نہیں مل رہیں ،اسپیکر سردار ایاز صادق رات دو بجے تک ہمارے ساتھ رابطے میں تھے اب وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مجھے علم نہیں ،پارلیمنٹ پر شب خون مارنے کی فوٹیج اسی طرح غائب ہوگئی جس طرح 9مئی کی فوٹیج غائب ہیں،شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پی ٹی آئی فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے ہم ملک میں آئین و جمہوریت کی جنگ لڑ رہے ہیں ،یہ لڑائی عدلیہ کی آزادی کی لڑائی ہے ،ہمارے ایم این ایز ،ایم پی ایز اور انکی فیملیز کو اٹھایا جاتا ہے ،کیا یہ جمہوریت ہے ؟،این او سی دیکر گرفتاریاں کی جاتی ہیں ،اب ڈی چوک میں دمادم مست قلندر ہوگا ،،ایس سی او یا کوئی دوسری عالمی کانفرس ،احتجاج کی کال صرف اڈیالہ جیل کا قیدی ہی واپس لے سکتا ہے ،ہم بات یہاں تک نہیں رکھے گی بلکہ ہم کراچی اور کوہٹہ تک احتجاج کا دائرہ پھیلا رہے ہیں ۔۔۔