مولانا فضل الرحمن کا فوج مخالف بیان، ملک میں نئی سیاسی لڑائی کا آغاز
اسٹیبلشمنٹ کے حمایتی میدان میں آ گئے، عائشہ گلالئی کے مولانا پر شرمناک الزامات، مقدمہ درج کر کے دکھاو، مولانا عطا الرحمن
اسلام آباد: ملک کے سیاسی حالات مکدر، عمران خان نے بعد اب مولانا فضل الرحمن اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے لے آمنے سامنے،کیا کوئی پی ٹی آئی اور جے ہو آئی کو ایک دوسرے سے ملانے کی سازش کر رہا ہے یا مولانا کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،
انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن سے براہ راست لڑنے کی بجائے پہلے اپنی چارپائی کے نیچے جھاڑو بھیرے،
ذرائع کا کہنا تھا کہ حالات جس طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، اس میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کوہاتھ ملازنے سے کوئی روک نہیں سکے گا جو ملک میں کسی کے تختہ پلٹ کا باعث ہو سکتا ہے،
لہذا اس بات کو چیک کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں موجودہ نظام کے خلاف کوئی سازش تو نہیں ہو رہی،
ذرائع کا خیال تھا کہ مولانا فضل الرحمن سے لڑائی کو بڑھانے کا نقصان کسی اور کو نہیں بلکہ اس سسٹم کو ہوگا،
واضح رہے کہ جے یو آئی کے سربراہ کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کے بعد فوری مولانا فضل الرحمن کے خلاف تنقیدی بیانات کی ایک موثر مہم شروع یو گئی ہے اور اس کے لیے ،مختلف لوگوں کو میدان میں اتارا جا رہا ہے،
ایسی ہی ایک شخصیت عائشہ گلالئی ہیں چو طویل عرصے سیاسی منظر سے غائب رہنے کے بعد ایک دم منظر عام پر آئیں اور انھوں نے مولانا کے خلاف اخلاق سے گری ہوئی تنقید کی،
عائشہ گلالئی کے بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے جس کے بعد ملک میں ایک اور سیاسی لڑائی کا راستہ کھل گیا ہے،
مخالفین کی جانب سے مخالفانہ بیان بازی کے نتیجے میں مولانا نے بھی اس حوالے سے اپنی جماعت کو الرٹ کر دیا ہے،