واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کے قائم کردہ نئے ادارے بورڈ آف پیس کے ارکان نے جنگ سے متاثرہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 5 ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ ہزاروں اہلکاروں کو بین الاقوامی استحکام اور سیکیورٹی مشن کے لیے تعینات کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ان وعدوں کا باقاعدہ اعلان جمعرات 19 فروری کو واشنگٹن میں بورڈ کے پہلے اجلاس کے موقع پر کیا جائے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ "بورڈ آف پیس تاریخ کا سب سے مؤثر بین الاقوامی ادارہ ثابت ہوگا اور اس کی سربراہی کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔”
اجلاس یونائٹیڈ سٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں ہوگا، جسے امریکی محکمہ خارجہ نے دسمبر میں تبدیل کر کے ڈونلڈ جے ٹرمپ یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کا نام دیا تھا۔
ابھی تک امریکہ کی جانب سے ان ممالک کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں جو تعمیرِ نو کے لیے مالی معاونت کریں گے یا استحکام فورس میں اہلکار فراہم کریں گے۔ تاہم انڈونیشیا کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جون کے اختتام تک 8 ہزار تک فوجی غزہ میں ممکنہ انسانی اور امن مشن کے لیے تیار ہوں گے، جو اس سلسلے میں پہلا واضح عزم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ہمراہ اس اجلاس میں شرکت کریں گے،
دوسری جانب ملک کی دینی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس کی مخالفت دیکھی جا رہی ہے، بلخصوص جے یو آئی اور جماعت اسلامی نے تحریک کا اعلان بھی کر دیا ہے ،