وادی تیراہ سے مقامی آبادی کا انخلاءکسی دباو کے تحت نہیں ، بلکہ معمول کی بات ہے،
موسم سرما میں برف باری کے باعث وادی تیراہ کے مکین ہجرت کرتے ہیں، اس میں فوج کو ملوث کرنا درست نہیں، تیراہ میں سو سے زائد ٹی ٹی پی کے لوگ آباد ہیں۔
اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہو رہا ، وہاں آئی بی اوز کیے جاتے ہیں ، تیراہ میں مقامی آبادی کے انخلاء سے فوج کا کوئی تعلق نہیں یہ فیصلہ صوبائی حکومت اور مشران کے جرگے کے نتجے میں ہوا ،
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ موسم سرما میں تیراہ میں غیر معمولی برف باری ہوتی ہے اس لیے مقامی لوگوں کی ہجرت معمول کی بات ہے اور ایسا برسوں سے ہوتا آ رہا ہے ، اس کو سیاست کے لیے استعمال کرنا افسوس ناک ہے،
خواجہ آصف نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت سارا ملبہ آپریشن پر ڈال رہی ہے جس کا وجود ہی نہیں، 11 دسمبر کو ایک جرگہ ہوا تھا،جس کے بعد نوٹیفکیشن بھی صوبائی حکومت نھے جاری کیا
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اور مشران کے جرگے کا فوج سے کوئی تعلق نہیں، اب آپریشن سے متعلق مفروضوں سے کام لیا جارہا ہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ صوبائی حکومت کی کارکردگی دیکھیں تو اس علاقے میں اسپتال، اسکول اور تھانہ موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہزاروں فٹ بلندی پر واقعے ان علاقوں میں بھنگ کی کاشت ہوتی ہے، جس سے حاصل رقم کالعدم ٹی ٹی پی اور مقامی سیاسی لوگ لیتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیاکہ وادی تیراہ کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی کے 500 لوگ موجود ہیں، ہمیں جہاں ان کے حوالے سے اطلاع ملتی ہے، قانون نافذ کرنے والے وہاں جاکر کارروائی کرتے ہیں۔
ا