افغانستان کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتے،دراندازی بند کی جائے:دفتر خارجہ
ترکی کا جاری کردہ اعلامیہ ایک کورنگ نوٹ ہے، نہ کہ دونوں فریقوں کا حتمی ورژن،معاملات کی تفصیلات فی الحال پہلی لائن پر نہیں بتائی جا سکتیں۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان 4 سال سے طالبان رجیم سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ وہ فتنہِ الہندوستان اور فتنہِ الخوارج کے خلاف کارروائیاں کرے؛ تاہم گزشتہ چار سال کے دوران ملک میں دہشت گردی میں اضافے کا سوال قابلِ تشویش رہا ہے، پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے اور مستقبل میں کسی قسم کی اشعال انگیزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔
طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ یہ باتیں بہت نزاکت طلب تھیں مثلاً کیا طالبان نے ٹی ٹی پی کو کالعدم قرار دیا یا دہشت گردی کے خلاف فتویٰ جاری کیا، ان معاملات کی تفصیلات فی الحال پہلی لائن پر نہیں بتائی جا سکتیں، دفترِ خارجہ کے نمائندگان مذاکرات میں موجود رہے اور اگر اگلے مرحلے میں کوئی بڑی پیش رفت ہو گی تو میڈیا کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکی کا جاری کردہ اعلامیہ ایک کورنگ نوٹ کے طور پر سامنے آیا، نہ کہ دونوں فریقوں کا حتمی ورژن، اور تحریری ضمانتوں کے بارے میں حتمی بات فی الحال نہیں کی جا سکتی، اگلے مرحلے تک انتظار ضروری ہے۔
پاکستان قطر اور ترکی کا شکر گزار ہے جن کی ثالثی سے مذاکرات میں مفاہمانہ حل کی جانب پیش رفت ممکن ہوئی، حکومت اور مسلح افواج ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے ہر وقت تیار اور چوکس ہیں۔