The news is by your side.

کراچی کا بارش سے برا حال ، صوبائی حکومت کی کارکردگی بے نقاب۔

بارش کے باعث شہر تالاب کو منظر پیش کرنے لگا، ایک درجن سے زائد ہلاکتیں،

0

کراچی میں بارش نے ایک بار بھر سندھ پر گذشتہ کئی سال سے قابض پیپلزپارٹی کی حکومت کی کارکردگی کی قلعی کھول دی، شہری پریشان۔ کراچی شہر مسائل کا ڈھیر ، اب تک ایک درجن افراد بارش کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،

یہ ہلاکتیں کرنٹ لگنے اور مکانوں و دیواروں کے گرنے سے ہوئیں۔ مرنے والوں میں بچے بھی شامل

بارش کے بعد کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود شہر کی نشیبی سڑکیں اور علاقے زیرآب رہے۔ ہزاروں گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں، اسکول کے بچے اور دفاتر جانے والے شہری بھی سڑکوں پر محصور ہوگئے۔ پانی گھرون اور کاروباری مراکز میں داحل ہونے کے باعث لوگوں کا بھاری مالی نقصان، املاک تباہی سے دوچار, شہر جگہ جگہ تلاب کا منظڑ پیش کرنے لگا

محکمہ موسمیات کے مطابق 23 اگست تک بارشیں جاری رہنے کا امکان

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی اور سندھ کے دیگر اضلاع میں 23 اگست تک بارشیں جاری رہنے کا امکان ہے۔

شدید بارش کے نتیجے میں کئی مرکزی شاہراہیں بند ہو گئیں اور نکاسی آب نہ ہونے کے باعث سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔

گلستانِ جوہر میں مکان کی دیوار گرنے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد ہلاک ہوئے جن میں 2 کم سن بچے بھی شامل تھے۔ اورنگی ٹاؤن میں گھر کی دیوار گرنے سے 8 سالہ بچہ جاں بحق ہوا۔

کئی علاقے بجلی سے محروم

بارشوں کے بعد کراچی بھر میں 900 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے جس کے باعث متعدد علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔ ڈیفنس، گلشنِ اقبال، نارتھ ناظم آباد سمیت کئی علاقے بجلی سے محروم ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بارش کے بعد کراچی کے 550 فیڈرز پر بجلی کی فراہمی معطل رہی اور بعض علاقوں میں 16 گھنٹے تک بجلی بند رہی۔

شہری گرمی اور حبس سے بلبلا اٹھے جبکہ انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی متاثر ہوئی۔

ترجمان کے الیکٹرک نے کہا کہ شہر کے 2100 میں سے 1550 فیڈرز سے بجلی بحال کردی گئی ہے، تاہم بارش اور ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے سے عملے کی آمد و رفت میں مشکلات درپیش ہیں۔

 

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.