The news is by your side.

حکومتی رکاوٹوں کے باوجود اپوزیشن کی دو روزہ آئین بحالی کانفرنس ۔

مقررین کا آئین کی بتدریج پامالی، غیر قانونیت، غیر منصفانہ انتحابات اور ملک میں میڈیا پر بڑھتی ہوئی پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار۔

0

 اسلام آباد :پاکستان کی تمام خزب اختلاف کی جماعتوں کی قومی کانفرنس  اسلام آباد میں جاری ۔ کانفرنس کا مقصد ملک میں آئین کی بتدریج پامالی، غیر قانونیت، غیر منصفانہ انتحابات اور ملک میں میڈیا پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کو اجاگر کرنا اور ان کے خلاف جدوجہد کی حکمت عملی واضع کرنا ہے ،

کانفرنس سابق وزیر اعظم اور عوام پاکستان کے قومی کنوینر شاہد خاقان عباسی اور  چئیرمین پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور چئیرمین تحریک تحفظ آئین  محمود خان اچکزئی کی دعوت پر منعقد کی جا رہی ہے۔ آج کانفرنس کا  دوسرا دن  ہے جس میں لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔

کانفرنس کا انعقاد ایک مشکل مرحلہ تھا۔ تین مختلف جگہوں پر کانفرس منعقد کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انتظامیہ کی مداخلت اور دباؤ کی وجہ سے بکنگ کینسل کی گئی۔

پہلے دن ابتدائی تقاریر میں شاہد خاقان عباسی اور محمود خان اچکزئی نے شرکا؀ کو خوش آمدید کہا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج شہریوں کے لئیے ملک میں آئین پر بات کرنا بھی مشکل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضع الفاظ میں کہا کہ آئین کی پامالی اور انتحابات کی چوری سیاسی عدم استحکام پیدا کرتی ہے اور سیاسی انتشار میں نہ معاشی ترقی ہو سکتی ہے اور نہ سرمایہ کاری ہوسکتی ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم بلوچستان، خیبر پحتونحواہ اور سندھ کے مسائل کو حقیقی انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں اور ان صوبوں کے مسائل کا تدارک کریں۔

پہلے دن کانفرنس کے تین سیشن ہوئے۔ پہلے سیشن میں میڈیا اور صحافی برادری سے مقررین نے خطاب کیا۔ اور پیکا قانون کی شدید مذمت کی اور ساتھ ہی ساتھ میڈیا کے اندر بھی اخلاقیات کی ترویج کی بات کی۔

دوسرا سیشن ملک کے اہم دانشوروں کی پینل ڈسکشن تھی جس کے منظم ڈاکٹر طارق بنوری تھے۔ اس پینل میں اہم نکات سامنے آئے۔ آئین کی بالا دستی کے حوالے سے کہا گیا کہ دستور کے دو حصے ہیں، ایک وہ کہ جس میں لوگوں کے حقوق کی بات کی گئی ہے اور دوسرے حصے میں حکومت سازی اور اداروں کی تنظیم اور ان کی حدود طے کی گئی ہیں۔ لیکن آئین کی بالا دستی کی بات اقتدار کے حصول کی حد تک تو کی جاتی ہے لیکن لوگوں کے حقوق کے حوالے سے نہیں کی جاتی۔ ریٹائرڈ جنرل نعیم لودھی نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی گاڑی پٹری سے اتر چکی ہے اور اسے اگر صرف اداروں کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تو یہ کبھی واپس پٹڑی پر نہیں چڑھ سکے گی۔ لیکن اس کے لیئے تمام قومی سیاسی لیڈر شپ کو مل کر کام کرنا ہوگا وگرنہ ہم ایک خطرناک صورتحال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

آخری سیشن میں وکلا؀ کے لیڈران نے خطاب کیا اور سب نے ملک میں ۲۶ ویں آئینی ترمیم کا نوحہ پڑھا اور عدلیہ کی زبوں حالی کا رونا رویا۔

 

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.