The news is by your side.

ایف بی آر نے آئندہ بجٹ میں ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلیے تجاویز طلب کرلیں

0

اسلام آباد ۔ایف بی آر نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)، امریکن بزنس کونسل آف پاکستان، پاکستان بزنس کونسل، اور دیگر چیمبرز آف کامرس و تجارتی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ 31 جنوری 2025 تک اپنی تجاویز جمع کروائیں۔ ان تجاویز میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، اور کسٹمز سے متعلقہ آرا شامل ہوں گی، جو آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حصہ بنائی جا سکتی ہیں۔

ترجیحی اقدامات

ایف بی آر نے درج ذیل امور پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے:

  • ٹیکس قوانین میں موجود تضادات اور خامیوں کو دور کرنا۔
  • مقامی صنعت کے تیار شدہ مصنوعات کو ٹیرف کے ذریعے تحفظ دینا۔
  • خام مال پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں رعایت۔
  • نئے افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے حکمت عملی کی تجاویز۔
  • ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانے کے لیے اقدامات۔
  • ریونیو جنریشن کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے طریقے۔

تجاویز کی تفصیلات

ایف بی آر نے کہا ہے کہ تجاویز دیتے وقت ان کے ممکنہ اثرات، ریونیو کی متوقع مقدار، اور ان تجاویز کا جواز بھی فراہم کیا جائے۔ ان تجاویز کو ایم ایس ورڈ یا ایکسل فارمیٹ میں بذریعہ ای میل بھجوانے کی سہولت دی گئی ہے۔

حکام کی وضاحت

ایف بی آر حکام کے مطابق:

  • متعلقہ فیلڈ فارمیشنز اور تجارتی تنظیموں کو خطوط بھیجے جا چکے ہیں۔
  • تجاویز کے جائزے کے بعد فنانس بل 2025-26 کی تشکیل کی جائے گی۔
  • مقررہ وقت کے بعد موصول ہونے والی تجاویز آئندہ بجٹ میں شامل نہیں کی جا سکیں گی۔

اہمیت

یہ اقدامات ملک میں ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے، ریونیو بڑھانے، اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ایف بی آر نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی آرا جلد از جلد فراہم کریں تاکہ بجٹ کی تیاری کے مراحل کو بروقت مکمل کیا جا سکے۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.