کیا ہم جھوٹ بول رہے ہیں۔ انٹرنیٹ سلو ہونے کے معاملے پر شرمیلا فاروقی شزہ فاطمہ پر برہم
اسلام آباد ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے مسئلے پر پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی شزہ فاطمہ سے برہم ہو گئیں اور کہا کہ جب پی ٹی آئی احتجاج کی کال دیتی ہے تو انٹرنیٹ بند ہو جاتا ہے، حکومت کہتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے تو کیا ای کامرس کے ادارے، ہم اور عوام جھوٹ بول رہے ہیں؟
ایکسپریس نیوز کے مطابق، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرمین سید امین الحق کی زیر صدارت منعقد ہوا، جہاں انٹرنیٹ کی سست روی کے بارے میں بحث کی گئی۔ وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ کے بیان پر پیپلز پارٹی کی رکن شرمیلا فاروقی برہم ہو گئیں۔
شزہ فاطمہ نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کی صورتحال ہے اور ہمیں جہاں ضرورت ہوتی ہے، وہاں سرویلنس کرنی پڑتی ہے، تاہم انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ عوام پر بلا وجہ سرویلنس نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ کے مسائل تھے مگر اب ان کا حل ہو چکا ہے، اور انٹرنیٹ کے حوالے سے صنعتوں کو اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔
شرمیلا فاروقی شزہ فاطمہ کے جوابوں پر ناراض ہو گئیں اور کہا کہ اب تک کئی اجلاس ہو چکے ہیں، لیکن مسئلہ کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔ انہوں نے کہا کہ یا تو ہم جھوٹ بول رہے ہیں یا حکومت جھوٹ بول رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے احتجاج کی کال آتی ہے تو فوراً انٹرنیٹ بند کر دیا جاتا ہے، کیا ہم بے وقوف ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ ای کامرس کے شعبے کو نقصان پہنچ رہا ہے، اور یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم یا عوام جھوٹ بولیں۔
شرمیلا فاروقی نے سوال کیا کہ کیا صرف حکومت ہی سچ بول رہی ہے؟ اور کہا کہ انٹرنیٹ کی سست رفتاری کے مسئلے کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔