The news is by your side.

جماعت اسلامی نے پیٹرولیم ڈیو یلپمنٹ لیوی کو آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا

درخواست جے آئی امیر حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے دائر کی گئی، درخواست کے مطابق ایک “ٹیکس" کو “پیٹرولیم لیوی” کا عنوان دے کر آئینی تقاضوں اور پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے، 

0

 اسلام آباد: امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کر لیا,ملک بھر میں نافذ پیٹرولیم لیوی نظام کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردیا

درخواست میں نئی متعارف کردہ “کلائمیٹ سپورٹ لیوی” کو بھی چیلنج کیا گیا ہے,

حافظ نعیم الرحمان نے ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے درخواست دائر کی

درخواست کے مطابق پٹرولیم لیوی آئین پاکستان، پارلیمانی بالادستی، وفاقی نظام، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے، پٹرولیم لیوی اب ایک محدود ریگولیٹری سرچارج نہیں رہی ،

پٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کے لیے سب سے بڑے ریونیو ذرائع میں تبدیل ہو چکی،

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کو پارلیمنٹ کے بجائے مسلسل ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے،

اس وقت پٹرول پر پٹرولیم لیوی تقریباً 117.41 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے،

مالی سال 2025-26 میں صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.47 ٹریلین روپے وصول کیے جانے کا تخمینہ ہے،جو پورے وفاقی بجٹ کا تقریباً 8.3 فی صد بنتا ہے،

اور پٹرولیم لیوی کی مد میں مجموعی وصولیاں اب تک تقریباً 6.3 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکیں ہیں،

ایک “ٹیکس” کو “پیٹرولیم لیوی” کا عنوان دے کر آئینی تقاضوں اور پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے،

اس طریقہ کار کے نتیجے میں عوام پر بڑے پیمانے پر مالی بوجھ عائد کیا جا رہا ہے،

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا عدالت کو اس معاملے کو صرف آئینی نہیں بلکہ عوامی مفاد کے تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا۔

ان کے مطابق لیوی کا پٹرول یا ٹیکس کے بنیادی ڈھانچے سے کوئی تعلق نہیں، مگر پٹرول کی قیمت میں لیوی کا حصہ 42 سے 43 فیصد تک پہنچ چکا ہے

 

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.