The news is by your side.

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیزکی آبادی کے اگلے27 سالہ تخمینے کی مشق مکمل۔

نیپس نے وزارت قومی صحت اور وزارت منصوبہ بندی کے تعاون اور اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کی معاونت سے، 2023 سے 2050 تک آبادی کے تخمینوں کی رپورٹ تیار کی،

0

اسلام آباد:  پاکستان کی آبادی سے متعلق نئے تخمینوں کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی 2050 تک 37 کروڑ 20 لاکھ سے 39 کروڑ کے درمیان پہنچنے کا امکان ہے۔ یہ تخمینے 2023 کی مردم شماری کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اسٹڈیز، ٹریننگ اینڈ ریسرچ نے وزارت قومی صحت اور وزارت منصوبہ بندی کے تعاون سے،

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے کی معاونت سے، 2023 سے 2050 تک آبادی کے تخمینوں پر مبنی مشق مکمل کر لی ہے۔

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال  نے نپس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مسز ثمینہ حسن اور ڈائریکٹر ربیعہ ظفر سمیت دیگر ٹیکنیکل ایکسپریس اور

ڈیموگرافرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پیشہ ورانہ مہارت، تکنیکی معیار اور قومی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ مکمل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 2023 کی مردم شماری کے تحت پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 18 لاکھ 60 ہزار ریکارڈ کی گئی تھی۔ نئے تخمینوں میں دو مختلف

منظرنامے پیش کیے گئے ہیں۔

پہلے منظرنامے کے تحت اگر شرح پیدائش میں کمی کی رفتار موجودہ رجحانات کے مطابق رہی تو پاکستان کی آبادی 2050 تک 38 کروڑ 97 لاکھ

80 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ اس صورت میں سالانہ آبادی میں اضافہ تقریباً 1.3 فیصد رہے گا۔

دوسرے منظرنامے میں مؤثر آبادی اور ترقیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں شرح پیدائش میں تیزی سے کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے

تحت 2050 تک آبادی 37 کروڑ 17 لاکھ 90 ہزار تک محدود رہ سکتی ہے جبکہ سالانہ شرح نمو 0.94 فیصد تک آ جائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب بدستور ملک کا سب سے بڑا صوبہ رہے گا جبکہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی آبادی میں اضافہ

متوقع ہے۔ بلوچستان میں شرح اضافہ سب سے زیادہ جبکہ اسلام آباد میں آبادی تقریباً تین گنا تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.