ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے شرائط میں نرمی۔
امریکہ کی 9 نکات کی تجویز کے جواب میں 14 نکات پرمشتمل تجویز پاکستان کے توسط سے امریکہ کو پیش کردی،
اسلام باد: ایران نے امریکہ کی 9 نکات کی تجویز کے جواب میں 14 نکات پرمشتمل تجویز پاکستان کے توسط سے امریکہ کو پیش کردی ہے۔ایران نے جنگ بندی میں توسیع کے بجائے جنگ کے خاتمے پر توجہ دینے کی بات کہی ہے۔
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ تسنیم اور فارس کے مطابق یہ 14 نکاتی منصوبہ امریکہ کی 9 نکاتی تجویز کا جواب ہے۔ اس کے اہم نکات میں 30 دن کے اندر اہم مسائل کے خاتمے پر زوردیا گیا ہے۔اس کے علاوہ، ایران کی جانب سے پیش کردہ نئی تجویز میں ، مستقبل میں جارحیت نہ کرنے کی ضمانت، امریکی افواج کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کا اجرا ، پابندیوں کا خاتمہ، لبنان میں مخاصمت کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کے لیے نیا انتظام شامل ہیں۔
ایران آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ۔
ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ ہے لیکن اس کے بدلے میں امریکہ کو اپنی ناکہ بندی ختم کرنی ہوگی اور حملہ نہ کرنے کی ضمانت دینا ہوگی۔ ان تجویز میں اہم نکتہ یہ ہے کہ ایٹمی پروگرام ملتوی کر دیا گیا ہے۔ امریکہ کو ایران کی 14 نکاتی تجویز کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز کے لیے نئے گورننگ میکانزم کا مطالبہ ہے۔
اس کے تحت بحری جہازوں کو مطلع کرنے، ٹول،فیس وصول کرنےیا ایرانی ساحل کے قریب ایک ہی لین سے گزرنے کا کنٹرول شامل ہو سکتا ہے۔ ایران اپنے روایتی دعوؤں کو برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی جہاز رانی کی اجازت دینے کا انتظام چاہتا ہے۔ امریکہ کو اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنی ہوگی، امریکہ اسرائیل کو مستقبل میں جارحیت نہ کرنے کی ضمانت دینی چاہئے اور تمام محاذوں پر جنگ کا مستقل خاتمہ ہو۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی تجاویز موصول ہو گئی ہیں جلد ان تجاویز کا جائزہ لوں گا،