مشرق وسطی کا بحران،اسلام آباد کل سے اہم ثالثی سرگرمیوں کا مرکز۔
اسرائیل، امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششیں نازک مرحلے میں داخل، کل سے چار مسلم ممالک کی وزرائے خارجہ کانفرنس کا اسلام آباد میں آغاز ۔ وزارت خارجہ کا اعلامیہ،
اسلام آباد : وفاقی دارلحکومت اسلام آباد آئندہ دو روز کے لیے اہم سفارتی سرگرمیوں کا مرکز ، خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور مستقل قیامِ امن کیلئے پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دیں، سعودی عرب ، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس کا کل سے آغاز،
دنیا کی دلچسپی اس میں ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس مشرق وسطی میں جاری بحران کے حل کے لیے کیا تجاویز لے کر سامنے آتی ہے،رت
اس حوالے سے وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے آج جاری بیان کے مطابق پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ 2026 کو پاکستان کا دورہ کریں گے۔
اس موقع پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اسلام آباد پہنچیں گے۔
ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ معزز مہمان پاکستان کے وزیرِاعظم سے بھی ملاقات کریں گے۔
حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ دورہ باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں ہم آہنگی بڑھانے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔
دوسری جانب عالمی سظح پر پاکستان کے اس انتہائی متحرک اور مرکزی کردار پر بھارت کو خوب مرچیں لگی ہوئی ہیں، بھارت کا سوشل میڈیا پاکستان کے خلاف اپنے مکروہ اور غلیظ پراپیگنڈے کی حمایت میں چیخ چیخ کر پاگل ہوا جا رہا ہے ، مگر دنیا پاکستان کے ساتھ مشرق وسطی کے بحران کے حل کے لیے سرجوڑے ہوئے ہے،