وفاقی حکومت کا مخصوص طبقے کو سستے ایندھن کی فراہمی پر غور۔
صوبوں 154ارب روپے مختص کرنے کی ہدایت،یہ سہولت موٹر سائیکل اور رکشوں کے لیے ہوگی، مجوزہ سبسڈی اسکیم کیلئے چار سے چھ ہفتوں کے عرصے میں تقریباً 300 ارب روپے درکار ہوں گے،
اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں وفاقی حکومت کے دو اور تین پہیہ گاڑیوں کیلئے سستا ایندھن فراہم کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے صوبوں کو ممکنہ سبسڈی اسکیم کیلئے 154 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کہ ہدایت،
،ذرائع کیمطابق حکومت صورتحال سے نمٹنے کلے لیے دو آپشنز پر غور کر رہی
پہلا یہ کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا بوجھ براہِ راست صارفین پر منتقل کیا جائے جبکہ دوسرا آپشن یہ ہے کہ موٹر سائیکلوں کیلئے 20 لیٹر اور رکشوں کیلئے 30 لیٹر تک ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جائے،
اس مجوزہ سبسڈی اسکیم کیلئے چار سے چھ ہفتوں کے عرصے میں تقریباً 300 ارب روپے درکار ہوں گے،
حتمی فیصلے کیلئے صدر مملکت، وزیرِاعظم اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا اہم اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہے جس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سبسڈی کے حوالے سے پالیسی طے کی جائے گی،
وفاق کیجانب سے موجودہ مشکل صورتحال میں صوبوں سے بھی تعاون کی درخواست کی گئی ہے وزارت پٹرولیم نے وفاق اور صوبوں کو آگاہ کیا ہے کہ ملک میں ایندھن کا ذخیرہ 10 مئی 2026 تک گھریلو ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہے،
پاکستان کے پاس تقریبا 42 دنوں سے زائد کیلئے پٹرولیم پراڈکٹس کا اسٹاک موجود ہے اور سنگین کشیدہ صورتحال نہیں ہے تاہم خلیجی خطے میں جاری کشیدگی برقرار رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں،
وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور قیمتوں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں فی الوقت ایندھن کی فراہمی مستحکم اور تسلی بخش ہے،