پارک ویو سٹی: جہاں لوگوں کی جمع پونجی سیلاب کی نذر ہو گئی،
سوسائٹی کے مالک عبدالعلیم خان کے پارک ویو سٹی کے جدید ترین ہونے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،
لاہور:وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی ہاوسنگ سوسائٹی پارک ویو سٹی جو حالیہ سیلاب کی نذر ہو گئی ، وفاقی وزرا کی جان سے عبدالعلیم خان کو ڈھکی چھپی تنقید کا سامنا، ان کے لیے اپنا بچاو کرنا مشکل ہو گیا،
سیلاب کی شدت اتنی تھی کہ پانی لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب واقع نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ’پارک ویو سٹی‘ میں بھی داخل ہوا جہاں رہائشیوں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سیلاب سے سوسائٹی میں ڈائمنڈ، اوورسیز، پلاٹینیم بلاکس متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے لگ بھگ 2 ہزار افراد کو وہاں سے منتقل ہونا پڑا۔
سوسائٹی کے مالک عبدالعلیم خان کے پارک ویو سٹی کے جدید ترین ہونے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،
پارک ویو سٹی سوسائٹی لاہور سات ہزار کنال سے زائد رقبے پر قائم ہے جو پہلے ”ریور ایج ہاؤسنگ اسکیم“ کے نام سے جانی جاتی تھی۔
رہائشی سوسائٹی میں تین ہزار سے زائد خاندان مقیم تھے، جبکہ یہاں 100 سے زیادہ کمرشل عمارتیں بھی قائم ہیں۔
پارک ویو سٹی لاہور کو ”ویژن گروپ“ نے تعمیر کیا ہے
سیلاب کے بعد سوسائٹی میں 10 فٹ سے زائد پانی کھڑا ہوگیا ہے جس کے سبب رہائشیوں کو گھروں سے کشتیوں کے ذریعے نکال کر ریسکیو کیا گیا۔
پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر سے قبل لوگوں کو آگاہ کیا گیا تھا کہ یہ ایک ایسی سوسائٹی ہوگی جہاں جدید طرز کی سہولیات اور بہترین انفراسٹرکچر ہوگا جس سے لوگوں کی یہاں پلاٹ خریدنے کی دلچسپی میں اضافہ ہوا۔
سیلاب کے باعث زیرِ آب آنے والی پارک ویو سوسائٹی سے متعلق بعض سیاسی رہنماؤں نے حالیہ دنوں میں دعویٰ کیا ہے کہ یہاں گھروں کی تعمیر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوئی تاہم سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز کچھ اور ہی کہانی پیش کر رہی ہیں۔
اس سوسائٹی کے حوالے سے یہاں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ”ہمیں نہیں پتہ تھا کہ پارک ویو مکمل طور پر دریائی زمین ہے۔ ہمیں دھوکے میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پوری سوسائٹی پانی کی بیلٹ پر بنائی گئی ہے۔“