The news is by your side.

پاکستان نے ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کو من و عن تسلیم نہیں کیا، اسحاق ڈار

پاکستان کی اعلیٰ قیادت غزہ میں امن فوج کی حمایت کیلئے اپنے فوجی بھیجنے سے متعلق فیصلہ کرے گی، نائب وزیر اعظم کی پریس کانفرنس

0
 اسلام آباد:نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت غزہ میں امن فوج کی حمایت کیلئے اپنے فوجی بھیجنے سے متعلق فیصلہ کرے گی‘ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کو من و عن تسلیم نہیں کیا،
وہ یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے ٹرمپ کے مجوزہ امن معاہدے  میں ترامیم تجویزکیں، ‘ابھی جو دستاویز ہے وہ امریکا نے جاری کی ہے ‘اگر اس میں ہماری تجاویز شامل نہیں ہیں تو شامل ہونی چاہئیں،
انھوں نے کہا کہ ‘سیاست کے لیے غزہ امن منصوبے کی مخالفت کی جا رہی ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ وہاں معصوم شہریوں کا خون بہتا رہے،خدارا کسی چیز میں تو سیاست کو نہ لائیں‘امن منصوبے پر سیاست نہ کی جائے،
ہم چاہتے ہیں کہ غزہ کے عوام کی تکالیف ختم ہوں‘اس معاملے پر بہت زیادہ کام ہوا، بات چیت کے کئی دور ہوئے، گزارش ہے کہ اچھے کام کو متنازع نہ بنائیں‘فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی،
اسحٰق ڈار کا کہنا تھاکہ فلسطین میں گراؤنڈ پر فلسطینی قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی کام کریں گے‘،
نڈونیشیا نے فلسطین میں20ہزار امن فوج تعینات کرنے کی پیشکش کی ہے‘امید ہے پاکستان بھی اس حوالے سے فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 8 مسلم ممالک کے سربراہان کی ملاقات کا مقصد غزہ میں امن واپس لانا تھا۔
غزہ میں قیام امن کے لیے وزیراعظم شہباز شریف بالکل واضح تھے، ہم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے قبل ہی غزہ کے مسئلے پر مسلم ممالک سے رابطے شروع کر دیئے تھے،
پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کی کوشش تھی کہ کسی طریقے سے غزہ میں امن بحال کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر سے ملاقات سے قبل 8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک میٹنگ شیڈول کی، میٹنگ کے ایجنڈے میں غزہ میں فوری طور پر سیز فائر کی کوشش، معصوموں کا خون بہنے کا سلسلہ روکنا، پٹی میں امداد پہنچانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔
اسحٰق ڈار نے بتایا کہ اسلامی ممالک نے صدر ٹرمپ کو دوران ملاقات تفصیل کے ساتھ اپنا ایجنڈا پیش کیا، جس پر امریکی صدر نے کہا کہ میری ٹیم اور آپ لوگ بیٹھ کر کوئی قابل عمل پرپوزل لے کر آئیں جس کے بعد ہماری کچھ ایسی میٹنگ بھی ہوئیں، جن کے حوالے سے اتفاق کیا گیا تھا کہ وہ کلاسیفائیڈ اور سیکریٹ ہوں گی، انہیں پبلک نہیں کیا جائے گا،
Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.