پیٹرولیم ڈیلر ایسوسی ایشن کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج۔
ایسوسی ایشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئندہ ہفتے سے ملک بھر میں پیٹرول پمپ انڈسٹری شٹ ڈاؤن ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد: آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلر ایسوسی ایشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کی ہے اور خبردار کیا ہے ایسوسی ایشن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئندہ ہفتے سے ملک بھر میں پیٹرول پمپ انڈسٹری شٹ ڈاؤن ہو سکتی ہے۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان، وائس چیئرمین وسیم کیانی اور رہنما عرفان الہی کا کہنا ہے کہ حکومت نے قیمتوں میں اضافے سے قبل انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے حالیہ ملاقات میں اپنے تحفظات اور مطالبات واضح طور پر پیش کیے گئے تھے، تاہم اس کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا جو ناقابل قبول ہے۔
وائس چیئرمین وسیم کیانی کے مطابق پیٹرول کی قیمت 459 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 520 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ پاکستان پٹرولیم ڈیلر کا مارجن بدستور پرانی سطح پر برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ کریڈٹ کارڈز اور کمپنی کارڈز پر کٹوتیوں کی شرح بھی مسلسل بڑھ رہی ہے جس سے کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مارجن میں اضافہ نہ کیا تو پیٹرولیم ڈیلرز کے لیے کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا اور انڈسٹری بند ہونے کے قریب پہنچ جائے گی۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پیٹرول پمپ مالکان کے مارجن میں اضافہ کیا جائے اور انہیں اعتماد میں لے کر پالیسی فیصلے کیے جائیں تاکہ ملک میں ایندھن کی ترسیل کا نظام متاثر نہ ہو۔