The news is by your side.

استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ناکام،

پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے۔۔افغان وفد نے مذاکرات کے بنیادی مدے سے انحراف کیا اور ذمہ داری قبول کرنے سے گریز

0

 اسلام آباد: پاکستان اور افغان پالبان کے درمیان استنبول ( ترکیہ ) میں انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں جاری مذاکرات ناکام ہو گئے، جس کے بعد پاکستان نے  دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کو نیست و نابود کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا اعلان کر دیا، گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے۔۔افغان وفد نے مذاکرات کے بنیادی مدے سے انحراف کیا اور ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا۔

پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے دوحہ معاہدے کے تحریری وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔سرحد پار دہشت گردی پر بارہا احتجاج کیا۔

افغان طالبان کی جانب سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی مسلسل حمایت پر پاکستان کی کوششیں بے سود رہیں۔ انھوں نے کہا کہ طالبان حکومت افغان عوام کی نمائندہ نہیں اور اپنی بقا کے لیے جنگی معیشت پر انحصار کرتی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ
افغان طالبان، افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے عوام کے امن و خوشحالی کے لیے قربانیاں پیش کیں۔
پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ متعدد مذاکرات کیے مگر افغان فریق نے پاکستان کے نقصانات سے بے نیازی دکھائی۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ چار برسوں کی جانی و مالی قربانیوں کے بعد پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
قطر اور ترکیہ کی درخواست پر پاکستان نے امن کے لیے ایک اور موقع دیا۔وزیر اطلاعات نے کہا دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کا واحد ایجنڈا دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنا تھا۔

پاکستان قطر اور ترکیہ کا شکر گزار ہے جنہوں نے مذاکرات کی میزبانی اور مخلصانہ کوششیں کیں۔

 

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.