واشنگٹن: پہلگام حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے کالعدم عسکریت پسند گروہ ’دا ریزسٹنس فرنٹ‘ (مزاحمتی محاذ)کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔
اس ضمن میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’دا ریزسٹنس فرنٹ، لشکرِ طیبہ کا فرنٹ اور نمائندہ گروہ ہے جس نے 22 اپریل 2025 کو پہلگام حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، اس حملے میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ پہلگام حملہ انڈیا میں 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد شہریوں پر کیا گیا سب سے مہلک حملہ تھا، ممبئی حملے لشکرِ طیبہ نے کیے تھے۔ دا ریزسٹنس فرنٹ نے انڈین سکیورٹی فورسز پر کئی دیگر حملوں کی بھی ذمہ داری بھی قبول کی ہے، جس میں تازہ ترین حملہ 2024 میں کیا گیا ہے۔۔۔‘
امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق مارکو روبیو نے کہا: ’واشنگٹن کی جانب سے مزاحمتی محاذ کو ’غیر ملکی دہشت گردتنظیم‘ اور خصوصی طور پر ’عالمی دہشت گرد‘ کے طور پر درج کرنا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’پہلگام حملے کے لیے انصاف کی اپیل‘ کی حمایت کرتا ہے۔‘
انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام نے امریکہ کے اس اقدام کو سرایتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امریکہ اور انڈیا کے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون کا اظہار ہے۔ انڈین وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’زیرو ٹالرینس فار ٹیررازم۔‘
امریکی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’محکمہ خارجہ کے یہ اقدامات ٹرمپ انتظامیہ کے اس عزم کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ، دہشت گردی کا مقابلہ، اور پہلگام حملے کے متاثرین کے لیے انصاف کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔‘