اسلام آباد:15 فروری 2025 – پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل آپریٹر جاز کے فِن ٹیک وِنگ، جاز کیش، کو عالمی موبائل (GLOMO) ایوارڈز میں ’بہترین فِن ٹیک انوویشن‘کیٹیگری کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈز موبائل ورلڈ کانگریس (MWC) 2025 کے دوران دیے جائیں گے۔
یہ نامزدگی جاز کیش کی جدید سہولت کا ایک اور اعتراف ہے، جو دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی سروس ہے۔ اس کے ذریعے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد دکاندار اور کاروباری افراد این ایف سی والے اینڈرائیڈ فون پر صرف ایک ’ٹیپ‘ سے کانٹیکٹ لیس کارڈ یا موبائل کے ذریعے ادائیگی وصول کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ماسٹر کارڈ کے اشتراک سے جاز کیش والیٹ کو بھی کسی بھی کانٹیکٹ لیس ڈیوائس پر ’ٹیپ‘ کر کے براہ راست ادائیگی کے قابل بنایا گیا ہے۔
جاز کیش کے صدر مرتضیٰ علی نے کہا، ”ہمارا مقصد ایسے پراڈکٹس بنانا ہے جو پاکستان کی منفرد مالیاتی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ یہ نامزدگی ہماری مسلسل جدت پسندی اور ہر فرد تک مالیاتی سہولیات پہنچانے کے عزم کا ثبوت ہے۔ ’ٹیپ پے‘ صرف ایک فیچر نہیں، بلکہ ایک بڑے مقصد کا حصہ ہے۔ایک ایسی معیشت کی تشکیل جہاں کیش کا استعمال کم ہو اور مالی لین دین باقاعدہ اور ڈیجیٹل ہو۔ ہم پاکستان میں مالیاتی سہولیات کو جدید بنانے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔“
پاکستان میں 5 کروڑ سے زائد ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے باوجود، ملک میں پوائنٹ آف سیل (PoS) مشینوں کی تعداد صرف 1 لاکھ 32 ہزار کے قریب ہے۔ جاز کیش کا ”ٹیپ پے” اس خلا کو پُر کرنے کے لیے3 لاکھ 60 ہزار دکانداروں کے اسمارٹ فونز کو PoS مشینوں میں تبدیل کر کے ملک بھر میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت پہنچا رہاہے۔
48 ملین صارفین کے ساتھ، جازکیش پاکستان میں کیش لیس معیشت کو فروغ دینے میں پیش پیش ہے، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔ جاز کیش نہ صرف ادائیگی بلکہ قرض، بچت اور انشورنس جیسی سہولیات بھی فراہم کر رہا ہے، تاکہ مالیاتی سہولیات ان لوگوں تک بھی پہنچیں جو اس سے محروم ہیں۔
جاز کیش کی جدت پسند حکمتِ عملی کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی مل چکی ہے۔ دبئی میں ایج 2024 ایوارڈز میں ماسٹر کارڈ نے جاز کیش کو ’ٹیپ آن فون متعارف کروانے والا اولین ٹیلی کام‘ کے اعزاز سے نوازا۔ اس سے قبل، 2017 میں، جاز کیش کو جی ایس ایم اے گلو مو ایوارڈ میں ’ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں خواتین کے لیے بہترین موبائل پراڈکٹ‘ کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے، جو مالی شمولیت اور کم وسائل رکھنے والی کمیونٹیز کو بااختیار بنانے کے اس کے عزم کا ثبوت ہے۔