The news is by your side.

جوہری ٹیکنالوجی موسمیاتی تبدیلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے نا گزیر ہے

'جوہری توانائی کے پر امن استعمال' کے موضوع پر منگل کے روز کراچی میں سیمینار کا انعقاد

0

کراچی: جوہری ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال پاکستان کے توانائی سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے بحران پر قابو کرنے کے لیے پائیدار حل کے طور پر نا گزیر ہے۔

یہ خیالات مقررین کی جانب سے منگل کو یہاں منعقدہ ‘جوہری توانائی کے پر امن استعمال’ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کے دوران ہونے والی گفتگو و مباحثے کا بنیادی نکتہ تھے۔

سیمینار کا انعقاد سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز سندھ (CISSS) نے DHA Suffa University (DSU) اور Millennium Institute of Technology and Entrepreneurship (MiTE) کے اشتراک سے DSU کے آڈیٹوریم میں کیا گیا ۔

پروفیسر ڈاکٹر ہما ​​بقائی، ریکٹر ایم آئی ٹی ای نے پلینری سیشن کی صدارت کی اور سیمینار کا افتتاح کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان کے وژن کے مطابق 2040 تک نیوکلیئر پاور پلانٹس (این پی پی) کے ذریعے 40,000 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جو کہ ملک کی توانائی کی کل ضروریات کا ایک چوتھائی پورا کرے،  یہ ایک قابل تعریف سنگ میل ہو گا اور اسے بہترین طریقے سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر احمد سعید منہاس وائس چانسلر DSU نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے ملک کے لیے پائیدار اہداف کے حصول کے لیے قومی محکموں کے درمیان تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (KATI) کے صدر جناب جنید نقی نے اپنے اختتامی کلمات کے ساتھ سیشن کا اختتام کیا جس میں NPPs کے کردار پر روشنی ڈالی گئی جن میں چشمہ میں چار اور کراچی میں دو پلانٹ قومی گرڈ کو 3500 میگاواٹ سے زیادہ صاف اور سستی توانائی فراہم کر رہےہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "توانائی ترقی کو اور ترقی قوموں کو بااختیار بناتی ہے اور امن اور ترقی کے لیے ایٹمی توانائی کا استعمال ایک آؤٹ آف باکس حل ہے جس کی ملک کو سخت ضرورت ہے اور KATI اس مقصد کے لیے  اپنا مکمل تعاون فراہم کرنے کا عزم کرتا ہے،

سیشن کا کلیدی خطاب جناب خاقان حسن نجیب، سابق مشیر، وزارت خزانہ نے کیا۔ انہوں نے انرجی ری سیٹ وژن کی وضاحت کی۔ خاقان نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ آزادانہ فیصلے کرنے میں خودمختار ایک قابل افرادی قوت کس طرح حیرت انگیز کام کر سکتی ہے۔

کامیابی کے اسی ماڈل کو پبلک سیکٹر کے تمام محکموں میں لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ‘گیم چینجر’ جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی کیونکہ میکرو اکانومی کو مستحکم کرنے کے لیے صرف محنت اور مسلسل کوششیں ہی پاکستان کو بحران سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ”

اس کے بعد ایک انٹرایکٹو سیشن ہوا جس میں طلباء، میڈیا اور صنعت سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز نے ماہرین کے پینل سے متعلقہ سوالات کیے جن کے تسلی بخش جوابات دیے گئے۔

Please follow and like us:
Pin Share
Leave A Reply

Your email address will not be published.