لاہور۔پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، رانا ثناءاللہ، سینیٹر عرفان صدیقی سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔
کمیٹی کے دیگر ارکان میں راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، خالد مقبول صدیقی، علیم خان، اور چوہدری سالک حسین شامل ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی میں عمر ایوب خان، علی امین گنڈاپور، سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، حامد رضا، حامد خان، اور علامہ راجہ ناصر عباس شامل ہیں۔
نواز شریف مذاکرات کے حامی ہیں
سینئر تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق نواز شریف مذاکرات کے حامی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ نواز شریف کی مذاکراتی سنجیدگی اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جو کمیٹی تشکیل دی ہے، اس کے زیادہ تر نام خود نواز شریف نے تجویز کیے ہیں۔
سیاسی فیصلوں کا اختیار نواز شریف کے پاس ہے
سلمان غنی کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سیاسی فیصلے نواز شریف کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ یہ مذاکرات سیاسی قیادت کے درمیان ہو رہے ہیں، لیکن بیک ڈور چینل کے ذریعے بھی کئی معاملات پر کام جاری ہے۔
تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف بھی مذاکرات کی خواہاں ہے اور نواز شریف کی طرف سے مثبت اشارہ دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس بار مذاکرات میں سنجیدگی دکھائی دے رہی ہے۔
عمران خان سے دوبارہ ملاقات کا امکان
سلمان غنی کے مطابق نواز شریف ماضی میں بھی ملک کے وسیع تر مفاد میں عمران خان سے ملاقات کے لیے بنی گالہ جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں نواز شریف دوبارہ عمران خان سے ملاقات کے لیے جا سکتے ہیں۔
عمران خان جیل میں مزید نہیں رہیں گے
تجزیہ کار نے کہا کہ نواز شریف کا عمران خان کے لیے ہمیشہ نرم رویہ رہا ہے۔ اگر مذاکرات کے معاملات آگے بڑھتے ہیں، تو یہ ممکن ہے کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے رہائی مل جائے اور وہ بنی گالہ منتقل ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دنوں میں نہیں بلکہ ہفتوں تک جاری رہے گا۔ ابتدائی طور پر معاملات میں ٹھہراؤ آئے گا، لیکن آگے چل کر مذاکرات بہتری کی طرف بڑھیں گے۔
Please follow and like us: