(دنیا ہم سے آگے ) تحریر ۔.عرفان طالب

پہلی دنیا میں ایسا کیا جادو ہے کہ ہمارا ٹیلنٹ وہ خواہ ڈاکٹر ہوں، انجنئیرہوں ، سائنسدان ہوں،ماہر معاشیات ہوں، آئی ٹی ایکسپرٹ ہوں یا کسی بھی شعبے سے ان کا تعلق ہو ان کی صرف ایک ہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح پاکستان سے باہر جا کر خدمات سرانجام دیں۔ خوب پیسہ کمائیں اور ہو سکے تو کسی بھی ملک کی شہریت حاصل کر کے باقی زندگی وہیں گزاریں۔ اس کو معاشیات میں برین ڈرین کہتے ہیں۔ جناب ذولفقار علی بھٹو نے ستر کی دہائی میں عام لوگوں کے لئے پاسپورٹ کا حصول آسان بنایا۔ بہت سے ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد نے بہت بڑی تعداد میں اپنا ملک چھوڑا اور مشرق وسطی کے ممالک میں محنت مزدوری کرنے کے لئے نقل مکانی کر گئے۔ انہوں نے مشکل حالات میں محنت کی اور اپنے گھر والوں کی کفالت کی۔ اس طرح کافی زرمبادلہ پاکستان آیا۔ اس زرمبادلہ کو صحیح طرح خرچ کیا جاتا اور یہاں چھوٹی بڑی صنعتیں لگائی جاتیں تو وہ لوگ واپس آ کر اپنے ملک میں کام کرتے اور ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتے۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور جو پیسہ باہر سے آیا اسے اینٹوں اور گارے میں تبدیل کیا گیا۔نئی گاڑیوں اور ذاتی نمود و نمائش پر خرچ کیا گیا اور یوں ایک نئی اصطلاح نے جنم لیا جسے دوبئی رحجان(دوبئی فینامینن) کہا جاتا ہے۔ اس کے اثرات ہماری سوسائٹی پر کیا ہوئے یہ ایک بہت لمبی بحث ہے۔ ہمارا موضوع برین ڈرین ہے اور اس کی وجہ دریافت کرنا ہے۔ سادہ سی وجہ ہے۔ اپنے دائیں بائیں دیکھیں آپ کو وجہ معلوم ہو جائے گی۔ جو بھی کسی شعبے کا ماہر باہر جانے کی دوڑ دھوپ کر رہا ہو اس سے بات کر کے دیکھیں ۔ وہ صرف ایک ہی بات کرے گا کہ پاکستان میں مواقع میسر نہیں ہیں۔ یہ مواقع کیسے میسر آئیں گے؟ ہم نے دیار غیر میں محنت مزدوری کر کےکمایا گیا قیمتی زرمبادلہ صحیح سمت میں خرچ نہیں کیا یوں اسے ضائع کر دیا۔ اگر کسی ہم وطن نے دیار غیر سے واپس آ کر یہاں کوئی کام کرنے کی ابتدا کی تو اول تو اس کی راہ میں اتنے روڑے اٹکائے گئے کہ وہ کام شروع ہی نہ کر سکا اور اگر اس نے کام شروع کر دیا تو اسے مختلف اداروں نے اتنی اذیت میں مبتلا کیا کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو کوستا واپس پردیس سدھارا۔ تشویش ناک بات تو یہ ہے کہ ہمارے صنعت کار بھی دو دہایوں سے اپنی صنعتیں بنگلہ دیش اور ملائشیا جیسے ممالک میں لگا کر وہی مصنوعات پاکستان بھجوا کر ان ملکوں کے زرمبادلہ میں اضافہ کر رہے ہیں۔ آج میری اعزاز نام کے ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ تھیوریٹیکل فزکس میں ایم ایس کر رہا تھا اور پی ایچ ڈی کرنے کے لئےچین جانے کا خواہشمند تھا۔ میرے استفسار پر اس نے بتایا کہ چین میں اس وقت تھیوریٹیکل فزکس میں بہت زیادہ ریسرچ کے مواقع ہیں۔ وہ اپنی یونیورسٹیز میں ریسرچ کرنے والوں کو بہت زیادہ پذیرائی دے رہا ہے۔ معقول مشاہرے سمیت بہت ساری سہولیات دے رہا ہے تاکہ پاکستان سمیت بیرونی دنیا سے بہترین دماغ اپنے پاس لا سکے۔ اور ان سے ملکی ترقی میں مغربی ممالک کا مقابلہ کر سکے۔ کیا ہم چین سے کسی طرح کا سبق حاصل کر سکتے ہیں؟ برین ڈرین کے متعلق ایک دلچسپ بات سنگا پور کے سابق وزیر اعظم نے اپنے کتاب “فرام تھرڈ ورلڈ ٹو فرسٹ’ میں لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ برین ڈرین کے متعلق جب انہوں نے ملائشیا کے اس وقت کے وزیر اعظم تن رزاق سے کہا کہ بہت سے پڑھے لکھے چائنیز اور انڈین، اسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جا رہے ہیں تو تن رزاق نے کہا یہ برین ڈرین نہیں ، ٹربل ڈرین ہے۔ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ہم بھی اسے ٹربل ڈرین سمجھتے ہیں اور خوش ہیں کہ جان چھوٹی سو لاکھوں پائے۔تیسری دنیا میں سنگا پور کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے۔ جس نے 9 اگست 1965 کو آزادی حاصل کی۔ تقریبا 60 لاکھ کی آبادی والے اس چھوٹےسے جزیرے کا کل رقبہ صرف 721 مربع کلومیٹر ہے۔ اور پاکستان میں جس قدرقدرتی وسائل ہیں سنگا پور میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ اس وقت یہ تیسری دنیا کا ملک نہیں بلکہ پہلی دنیا کا ملک ہے۔ اس کے وزیر آعظم لی کوان یو 1959 سے 1990 تک اقتدار میں رہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے ملک میں تعلیم کا معیار بڑھایا بلکہ چین، انڈیا اور دوسرے ممالک سے آنے والے ذہین لوگوں کی قدر کی اور ان کو اپنے ملک میں بسایا۔ وہ برین ڈرین کے سخت خلاف تھے اور ملک کی ترقی کا راز بہترین اذہان کو گردانتے تھے۔ وہ تو لائق اور ذہین لوگوں کے دلدادہ تھے۔ یہاں تک کہ وہ چاہتے تھے کہ گریجویٹ مرد صرف گریجویٹ خواتین سے شادی کریں تا کہ نئی نسل بہت زیادہ ذہین ہو۔ انہوں نے اپنے ملک کو پہلی دنیا کے ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا۔ اس کی اور وجوہات کے علاوہ سب سے بڑی وجہ برین ڈرین کو روکنا تھا۔ جیسا پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ چین کی ترقی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ملک میں بہترین اذہان کو لا رہا ہے اور ریسرچ کے شعبے میں امریکا جیسے ممالک کا مقابلہ کر رہا ہے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اس معاملے پر چنداں توجہ نہیں دی۔ اس وقت ہمارے بہترین ڈاکٹر، انجنئیر، اساتذہ، ماہر معاشیات، آئی ٹی ایکسپرٹ ، سائنسدان، صنعتکار، بینک کار غرض کہ ہر شعبے کے ماہرین پہلی دنیا میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ان کو واپس لا کر ملکی ترقی میں ان سے فائدہ اٹھانے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی بلکہ جو کسی بھی شعبے کا ماہر ہوتا ہے اسے کسی قسم کی پذیرائی دینا تو کجا اسے باہر دھکیل دیا جاتا ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی میں اس سے بڑی رکاوٹ اور کیا ہو سکتی ہے؟ کیا ہم سنگا پور کی ترقی سے کوئی سبق حاصل کر سکتے ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ برین ڈرین کو ہر صورت روکنے کی کوشش کی جائے اور اس سلسے میں جلد از جلد اقدامات کئے جائیں۔ کہیں یہ نہ ہو کہ بہت دیر کی مہرباں آتے آتے۔ عرفان طالب۔پرنسپل، پریزنٹ ٹائمز پبلک سکول، ایبٹ آباد۔Email: [email protected]

اپنا تبصرہ بھیجیں