6 رکنی بینچ کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں، قاضی فائز عیسیٰ نے اعتراض اٹھا دیا.

اسلام آباد:.
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حافظ قرآن کو میڈیکل میں دا خلے کے لیے 20 اضافی نمبر دینے کے حوالے سے از خود نو ٹس کیس میں اپنا تفصیلی نوٹ جا ری کر دیا ہے ۔جس میں انھوں نے چھ ججو ں کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ نہ تو آئین نے ہی اور نہ ہی کسی اور قانون نے کسی عدالت میں چھ جلیل القدر ججو ں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے اپ کو اختیار دیں اس لیے سوموٹو کیس نمبر چار میں سپریم کورٹ کے حکم نا مے مو رخہ 29مارچ2023کو چار اپریل کا نو ٹ منسو خ نہیں کر سکتا،متکبرانہ آمریت کی دھندمیں لپٹے کسی کمرہ عدالت سے نکلنے والے فیصلے آئین کو برطرف نہیں کر سکتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی وفاقی حکومت کے ملازم ہیں، عشرت علی کو ڈیپوٹیشن پر بطور رجسٹرار سپریم کورٹ بھیجا گیا،سپریم کورٹ کے رجسٹرار عشرت علی نے 4اپریل کو خود کو غلط طور پر رجسٹرارظاہرکیا ہے کیو نکہ عشرت علی کو 3اپریل 2023کونوٹیفکیشن کے ذریعے وفاقی حکومت نے واپس بلایا تھا،

عشرت علی نے وفاقی حکومت کے حکم کی تعمیل سے انکار کیا ہے،رجسٹرار عشرت علی نے 4 اپریل کو لارجر بینچ تشکیل کے روسٹر پر دستخط کیے ، میرے فیصلے پر 6رکنی بینچ کے تشکیل کی آئین و قانون میں اجازت نہیں تھی۔6رکنی بینچ کے 4 اپریل کے فیصلے کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ،3رکنی بینچ کے فیصلے پر 6رکنی بینچ کی تشکیل غلط تھی ، لارجر بینچ کو 4 اپریل کا آرڈر جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

عشرت علی نے 29مارچ کے حکم نا مے کی تعمیل کی بجا ئے ایک ایسا کام کیا جو کہ غیر معمولی تھاانہو ں نے ایک مرا سلہ جاری کیا جبکہ ان کے پاس عدالتی حکم نا مے کو کالعدم کر نے کے لیے کوئی طاقت یا اختیار نہیں اور چیف جسٹس اس مقصد کے لیے کوئی انتظامی حکم بھی جاری نہیں کر سکتے،خط کی نقل چیف جسٹس کو بھی بھجوائی گئی اور آج تک اس کا جواب نہیں آیا۔

چیف جسٹس اپنے لیے یکطرفہ طور پر سپریم کورٹ کے تمام اختیارات حاصل نہیں کر سکتے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا کہ چھ رکنی لارجر بینچ کی تشکیل اس وقت کی گئی جب یہ احساس ہوا کہ رجسٹرار کا مراسلہ واضع طور پر غیر آئینی و غیر قانونی تھا اور یہ کہ چیف جسٹس اس کو جاری کر نے کے لیے ہدایات نہیں دے سکتے تھے۔

تفصیلی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 29 مارچ کے حکم کو 6 رکنی بینچ کالعدم نہیں کر سکتا تھا، 6ججز کا فیصلہ آئین کا متبادل نہیں ہو سکتا ،6ججز کو جلدبا زی میں اکھٹا کیا گیا اور بینچ کی سربراہی کر نے والے جج اور ان کے بعد سینیر ترین جج نے اکھٹا ہو نے کے بعد چند منٹوں میں ہی معاملہ نمٹا دیا۔

فا ضل جج نے لکھا کہ چارا پریل کا نو ٹ چیف جسٹس کو ماسٹر آف رولز کا اختیار دیتا ہے جو ایسی اصطلاح ہے جس کا وجود کسی آئین یا قانون کی حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے رولز 1980میں بھی نہیں پایا جاتا۔چیف جسٹس قابل احترام ہیں لیکن وہ ماسٹر نہیں،ایسی غلامی اسلام کے لیے اجنبی ہے ،انہو ں نے مزید لکھا کہ اگر عدلیہ کے جواز وقار پر حرف آیا تو عدلیہ اور پاکستان کے عوام کو نا قابل تلا فی نقصان ہو گا کیو نکہ اس کے بغیر عوام عدلیہ پر اپنا اعتماد کھو بیھٹیں گے ایسا کر نے کا سب سے یقینی را ستہ یہ ہے کہ مقدمات کے فیصلے آئین کے مطابق نہ کیے جا یں، پاکستان کو سب سے پہلے اس وقت برباد کیا گیا جب ایک بیوروکریٹ گورنر جنرل نے آئین ساز اسمبلی غیر آئینی طریقے سے برطرف کر دی اور سندھ چیف کورٹ کا متفقہ فیصلہ وفا قی عدالت نے منسوخ کر دیا۔

وفاقی عدالت کے فیصلے نے مستقبل کے آمرو ں کو سویلین حکومتیں برطرف کر نے کے قابل بنایا۔

افسوس ہے کہ ایک سے زائد مرتبہ چیف جسٹس اورسپریم کورٹ کے ججو ں نے آمروں کی سہو لت کاری کی ،سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک اس وجہ سے دو لخت ہوا کہ آئینی انحرافات کو جواز دئیے گئے۔ آئین سپریم کورٹ کے بینچ یا ججو ں کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ سپریم کورٹ کے کسی فیصلے کے خلاف اپیل کا فیصلہ کر نے بیھٹیہ جایں اس لیے اس کیس کی سماعت کے لیے چھ رکنی لارجر بینچ کی تشکیل غلط تھی۔

لارجر بینچ کو آئینی عدالت کی حثیت حاصل نہیں تھی اور وہ یہ حکم بھی جاری نہیں کر سکتا تھا اس کا کوئی آئینی اور قانونی اثر نہیں ہے قانونی طور پر یہ بات غلط ہو گی کہ اس کو حکم نا مہ کہا جائے اس کو چار اپریل کا ایک نو ٹ کہا جائے گا۔
۔

اپنا تبصرہ بھیجیں