وفاقی کابینہ کا سیالکوٹ واقعہ میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دینے کا اعلان۔

اسلام آباد ( یو این آئی نیوز) وفاقی کابینہ نے سیالکوٹ واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئےاس موقف کا اظہار کیاہے کہ یہ اسلام کے امن و سلامتی کے اصل تشخص کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان اقلیت سے تعلق رکھنے والے ہر باشندے کے حقوق دینے کی پابند ہے۔وہ تمام افراد جو سیالکوٹ جیسے گھناونے جرم میں گرفتار ہیں، ان کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔ کابینہ نے ملک عدنان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا اور سراہا جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر سری لنکن منیجر کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس گذشتہ روز یہاں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرانے اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا اختیار دینے کے حوالے سے بریفنگ۔ وفاقی وزیر شبلی فراز نے کابینہ کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ملک کے تمام پولنگ اسٹیشنز تک ترسیل و استعمال اور عملہ کی ٹریننگ کے حوالے سے شیڈیول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کابینہ کو عوامی آگاہی مہم کے حوالے سے بریف کیا۔کابینہ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا اختیار دینے کے قوانین لاگو ہونے بعد آیندہ انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے منعقد کرانے کے عظم کا اظہار کیا۔پبلک آکاونٹس کمیٹی کے کام کو مزید موثر بنانے اور اصلاحات کے لیے کابینہ ارکان نے تجاویز پیش کیں۔ مشیر خزانہ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، عامر ڈوگر اور سیکریٹری کابینہ پر مشتمل کمیٹی ان تجاویز کا جائزہ لے کر سفارشات پر مبنی رپورٹ پیش کرے گی۔مشیر خزانہ نے وفاقی کابینہ کو اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.48فی صدکمی آئی ہے۔ چینی، آٹا اور گھریلو استعمال کی اشیاء میں کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔۔11 اشیاء کی قیمتوں میں کمی آئی۔۔ 19 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کے خطے میں گھی اور چائے کی پتی کی قیمتوں کے علاوہ دیگر تمام گھریلو استعمال کی اشیا کی قیمتیں پاکستان میں کم ہیں۔ ان اشیاء میں آٹا، چنے، دال ماش، دال مونگ، ٹماٹر، پیاز، چکن اور پیٹرول شامل ہیں۔منصوبہ بندی ڈویژن اور قومی ورثہ و کلچر ڈویژن نے کابینہ کو ذیلی اداروں میں ایم ڈی اور سی ای او کی خالی آسامیوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ منصوبہ بندی ڈویژن نے کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت04 آسامیاں خالی ہیں جن پر تعیناتیوں کا عمل جاری ہے۔قومی ورثہ و کلچر ڈویژن نے کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت صرف 02 آسامیاں خالی ہیں جن پر تعیناتیوں کا عمل جاری ہے۔ افغان باشندوں کی سہولت کے لیے کابینہ نے انسانی ہمدردی کے بنیاد پرپاکستان کی سرزمین سے ہوائی سفرکرنے کی اجازت دی۔ افغان باشندے اب پاکستان کے ہوائی اڈوں سے دوسرے ممالک آسانی سے ہوائی سفر کرسکیں گے۔ کابینہ نے وزارت توانائی کی سفارش پر سی ای او گجرنوالہ الیکٹرک پاور کمپنی کی مراعات طے کرنے کا اختیار بورڈ کو تفویض کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے وزارت توانائی کی سفارش پر قاضی محمد طاہر کو بطور سی ای او قبائلی علاقہ جا ت الیکٹرک سپلائی کمپنی تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی سفارش پر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 21 کے سید عطاالرحمن کو تین ماہ یا مستقل ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی تک پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کا اضافی چارج دینے کی منظوری دی۔ کابینہ نے حنان اکرم کو PPRAبورڈ پر بطور پرائیویٹ ممبر تعینا ت کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے کمیٹی برائے نجکاری کے 22نومبر 2021ء کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کمیٹی برائے نجکاری کے زیر نگرانی سب کمیٹی قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 22نومبر اور 01 دسمبر 2021ء کو منعقدہ اجلاسوں میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی ان میں ذاتی اور حفاظتی آلات (پی پی ای) آلات سمیت یو ایس ایڈ کی طرف سے ادویات کے معیار میں بہتری کے لیے عطیہ کیے گئے ٹیسٹنگ آلات پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ ، گلگت بلتستان کو دس ہزار میٹرک ٹن اضافی گندم کی فراہمی۔ بلکسر تا میانوالی ( N-130) اورمیانوالی تامظفر گڑھ (N-135) سڑکوں کی مرمت وبحالی اور خیر سگالی کے طور پر اس وقت افغانستان سے درآمد کی جانے والی مختلف اشیاء پر ٹیرف کا خاتمہ / کمی کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات پر او ایم سیز اور ڈیلرز کے مارجن پر نظر ثانی شامل ہیں .کابینہ نے کمیٹی برائے قانون کے 2دسمبر 2021ء کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔ وزارت خوراک نے کابینہ کو ملک میں کاشت ہونے والی پانچ اہم فصلوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت نے کسان دوست پالیسیاں مرتب کیں جن میں 277ارب روپے کی قومی زرعی ایمرجنسی پروگرام، 48.586ارب روپے کا زرعی اصلاحاتی پلان، 1500ارب روپے کے زرعی قرضے، معیاری بیج کی فراہمی،148ارب روپے کی کھاد پر سبسڈی اور کسانوں کے لیے امدادی قیمتوں کا تعین شامل ہیں۔ان اقدامات کی بدولت گندم، کپاس، چاول، مکئی اورگنے کی کاشت میں اضافہ ہوا اور جو اضافی پیدا وار ملے گی اس سے درآمدات میں 2.6 ا رب ڈالر کی بچت ہوگی جبکہ ملکی ضرورت پوری کرنے کے بعد پاکستان 4.6بلین امریکی ڈالر کی برآمدات کی جاسکیں گی۔کابینہ کو مزید بتایا گیا کہ گندم کی بوری کی قیمت 1877روپے ہوگئی ہے جبکہ عالمی منڈی کی اس کی قیمت 10ہزار فی بوری ہے۔ کابینہ اجلاس میں اضافی ایجنڈا کا جازئہ لیتے ہوئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ملک میں یوریا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک لاکھ ٹن یوریا درآمد پر PPRAضوابط سے جزوئی استثنیٰ دینے کی منظوری دی۔ خزانہ ڈویژن کی سفارش پر کابینہ نے عامر علی خان کو چیئرمین ایس ای سی پی کی دوبارہ تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ نے ویسٹ انڈیزکرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے لیے سیکورٹی اقدامات لینے کی منظوری دی۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے اطلاعات ونشریات چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ سیالکوٹ واقعہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، یہ پاکستان کا چہرا مسخ کرنے کے مترادف ہے، کابینہ نے اس سانحہ کی شدید مذمت کی، انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اور کابینہ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ جو ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں ان کا ٹرائل جلد شروع کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں،وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کے حقوق کے تحفظ کی پابند ہے، پاکستان کے معاشرے اور حکومت نے اس سانحہ پر جس طرح ردعمل کا اظہار کیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ہندوستان اور دیگر ممالک سے بہت مختلف ہیں، ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے واقعات روز ہوتے ہیں لیکن وہاں پتہ تک نہیں ہل پاتا، انھوں نے کہا کہ سانحہ سیالکوٹ پر پوری قوم متحد ہے،وزیراعظم نے بھی تقریب میں بتایا کہ اے پی ایس سانحہ کی طرح پوری قوم اس سانحہ پر بھی متحد ہے، پاکستان کا ہر شہری اس سانحہ کی مذمت کر رہا ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان اعتدالال پسند لوگوں کا ملک ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مختلف وجوہات پر جو اقدامات نہیں اٹھائے جا سکے، ہم اس جانب آگے بڑھ رہے ہیں، چوہدری فواد حسین نے کہاکہ کابینہ کو ای وی ایم پر بریفنگ دی گئی، الیکشن کمیشن کو ای وی ایم کے حوالے سے اپنی تسلی کرنی چاہئے،الیکشن کمیشن سمیت ہر شخص کے لئے ای وی ایم کا نظام سمجھنا ضروری ہے، سمجھے بغیر تنقید اور اسے مسترد کرنے پر ہمارا اعتراض بنتا ہے،پیپلزپارٹی 2012 اور مسلم لیگ ن 2017 میں ای وی ایم پر قانون سازی لے کر آئی تھی ،الیکشن کمیشن نے جو شرائط دی تھیں، اس کے مطابق اپنا ٹینڈر کر دے، ہم اس پر عمل درآمد کرلیں گے،ای وی ایم لانے کا مقصد ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے،انہوں نے کہاکہ ن لیگ اور پی پی پی نے جس طرح اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے خلاف مہم چلائی، یہ سیاسی خودکشی ہے،ایسے لگتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ذمہ داری صرف پی ٹی آئی پر ہے،ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتے ہیں،یہ ہمارے منشور میں بھی شامل ہے، فواد حسین چوہدری نے کہاکہ نواز شریف کی پوری فیملی بیرون ملک مقیم ہے، حسن اور حسین نواز کا موقف ہے کہ ان پر پاکستانی قانون لاگو ہی نہیں ہوتا، ایسے لگتا ہے کہ انہوں نے پاکستانی پاسپورٹ پھاڑ کر پھینک دیا ہے،ہم حسن نواز اور حسین نواز کو بھی موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ بھی یہاں اپنے پاپا کی پارٹی کو ووٹ دے سکیں، بلاول بھٹونے پوری زندگی باہر گذاری،اوورسیزپاکستانیوں کو ووٹنگ کاحق دینے کے خلاف ان کی مخاصمت کی وجہ نظر نہیں آتی، ہماری پارٹی کا منشور ہے کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دیں گے اور یہ حق انہیں ضرور ملے گا،انہوں نے کہاکہ انتہاءپسند نظریات کی حامل جماعتیں کسی صورت مرکزی دھارے میں نہیں آ سکتیں،ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہاکہ چوہدری سرور کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر چلایا گیا، پوری بات سامنے نہیں آئے گی تو اسی طرح کنفیوژن پیدا ہو گی ،انہوں نے مزید کہاکہ میڈیا کو کابینہ کی خبریں ذرائع سے نہیں چلانی چاہئیں، انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے،چینی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ رواں سال 400 ارب روپے ایگری کلچر سیکٹر کو زیادہ گیا۔انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں آٹے کا 20کلو کا تھیلا 1100روپے میں مل رہا ہے ، کراچی میں آٹے کا 20کلو کا تھیلا 1456روپے میں مل رہا ہے ، کراچی کے علاوہ پورے ملک میں چینی 90روپے فی کلو مل رہی ہے ، امید ہے آئندہ چند روز میں چینی کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ دالوں کی قیمتوں میں استحکام ہے ، کراچی میں اشیاء کی قیمتوں میں کچھ استحکام آیا ہے ،ا نھوں نے کہا کہ اس وقت بیشتر اشیا کی قیمتیں سری لنکا ، بنگلا دیش اور انڈیا سے سستی ہیں اس کو بھی سراہنا چاہیے یہاں 27 گھنٹے یہ پراپیگنڈا ہو رہا ہوتا ہے کہ یہاں پتہ نہیں کیا ہو گیا ،ہم دنیا سے علیحدہ سیارے پر نہیں ہیں ، دنیا میں مہنگائی ہو گی تو پاکستان میں بھی ہو گی ، ہم یہی کر سکتے ہیں کہ ہم یہ دیکھ لیں کہ مہنگائی میں ہم اپنے ریجن میں کہاں کھڑے ہیں ،وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہاکہ ملک میں مہنگائی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں لیکن یہ ایک طبقے کے لیے ہے اور وہ تنخواہ دار طبقہ ہے ۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ہمارا الیکشن کمیشن سے کوئی لڑائی جھگڑا ہی نہیں ہے ، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ آپ اپنا اطمینان کریں لیکن یہ نہیں ہونا چاہیے کہ 2012 میں شروع ہونے والا پراسیس 2021میں بھی مکمل نہین ہو رہا ،اس کو مکمل ہونا چاہیے ، ہم الیکشن کمیشن کو پوری معاونت دے رہے ہیں اور اس کے لیے تیار ہیں ، ،وفاقی وزیرنے رانا شمیم کے حوالے سےسوال کے جواب میں کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے، ان کو ملک سے باہرجانے کے لیے عدالت کی اجازت چاہیے، عدالت کی اجازت سے ہی وہ بیرون ملک جاسکتے ہیں، ان کے کیس میں قانونی کارروائی کی اگر ضرورت پڑی تو کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں